کتب حدیثصحيح ابن خزيمهابوابباب: اس بات کی دلیل کا بیان کہ عورتوں کو مساجد میں جانے سے روکنے کی ممانعت اس وقت ہے جب ان کے مساجد کی طرف جانے میں فساد کا ڈر نہ ہو
حدیث نمبر: 1698
نا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ ، نا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ يَزِيدَ . ح وَثنا عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ الْعَلاءِ ، نا سُفْيَانُ ، كِلاهُمَا ، عَنْ يَحْيَى . ح وَحَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ عُيَيْنَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ عَمْرَةَ ، قَالَتْ : سَمِعْتُ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا ، تَقُولُ : " لَوْ رَأَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا أَحْدَثَ النِّسَاءُ بَعْدَهُ لَمَنَعَهُنَّ الْمَسَاجِدَ ، كَمَا مُنِعَتْ نِسَاءُ بَنِي إِسْرَائِيلَ " ، فَقُلْتُ : مَا هَذِهِ ؟ أَوَ مُنِعَتْ نِسَاءُ بَنِي إِسْرَائِيلَ ؟ قَالَتْ : " نَعَمْ " . هَذَا حَدِيثُ عَبْدِ الْجَبَّارِ . وَقَالَ أَحْمَدُ فِي حَدِيثِهِ : قُلْتُ لِعَمْرَةَ : وَمُنِعَ نِسَاءُ بَنِي إِسْرَائِيلَ ؟
محمد اجمل بھٹی حفظہ اللہ
حضرت عمرہ بیان کرتی ہیں کہ میں نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو فرماتے ہوئے سنا کہ اگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وہ چیزیں دیکھ لیتے جو عورتوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد زیب و زینت اور بناؤ سنگھار اختیارکرلیا ہے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اُنہیں مسجدوں میں آنے سے منع کر دیتے جیسا کہ بنی اسرائیل کی عورتوں کو روک دیا گیا تھا ۔ حضرت عمرہ کہتی ہیں کہ میں نے کہا ، یہ کیا بات ہے ؟ کیا بنی اسرائیل کی عورتوں کو مسجد میں آنے سے روک دیا گیا تھا ؟ انہوں نے فرمایا کہ ہاں ۔ یہ جناب عبدالجبار کی حدیث ہے اور جناب احمد کی روایت میں ہے کہ میں نے سیدنا عمرہ سے پوچھا ، کیا بنی اسرائیل کی عورتوں کو روک دیا گیا تھا ؟
حوالہ حدیث صحيح ابن خزيمه / جماع أبواب صلاة النساء فى الجماعة / حدیث: 1698
تخریج حدیث صحيح بخاري