کتب حدیثصحيح ابن خزيمهابوابباب: اس بات کی دلیل کا بیان کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی لہسن و پیاز نہ کھانے کی خصوصیت فرشتوں سے ہم کلامی کی وجہ سے ہے
حدیث نمبر: 1671
نا أَبُو قُدَامَةَ ، وَزِيَادُ بْنُ يَحْيَى ، قَالا : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، قَالَ أَبُو قُدَامَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ ، وَقَالَ زِيَادٌ : عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي يَزِيدَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أُمِّ أَيُّوبَ ، قَالَتْ : نَزَلَ عَلَيْنَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَتَكَلَّفْنَا لَهُ طَعَامًا فِيهِ بَعْضُ الْبُقُولِ ، فَلَمَّا وُضِعَ بَيْنَ يَدَيْهِ ، قَالَ لأَصْحَابِهِ : " كُلُوا ، فَإِنِّي لَسْتُ كَأَحَدٍ مِنْكُمْ ، إِنِّي أَخَافُ أَنْ أُوذِيَ صَاحِبِي " . وَقَالَ أَبُو قُدَامَةَ : عَنْ أُمِّ أَيُّوبَ : نَزَلْتُ عَلَيْهَا ، فَحَدَّثَتْنِي ، قَالَتْ : نَزَلَ عَلَيْنَا
محمد اجمل بھٹی حفظہ اللہ
سیدہ اُم ایوب رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے گھر مہمان ٹھہرے تو ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے خصوصی کھانا تیار کیا جس میں کچھ سبزیاں بھی شامل تھیں ، جب وہ کھانا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو پیش کیا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ساتھیوں سے فرمایا : ” تم کھا لو کیونکہ میں تمہارے جیسا نہیں ہوں ، بلاشبہ مجھے خدشہ ہے کہ میں اپنے ساتھی ( جبرائیل ) کو تکلیف دوں گا ۔ “ جناب ابو قدامہ بیان کر تے ہیں کہ میں سیدہ اُم ایوب رضی اللہ عنہا کے ہاں مہمان ٹھہرا تو اُنہوں نے مجھے بیان کیا ، وہ فرماتی ہیں کہ آپ ( رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ) ہمارے مہمان بنے ۔
حوالہ حدیث صحيح ابن خزيمه / جماع أبواب العذر الذى يجوز فيه ترك إتيان الجماعة / حدیث: 1671
تخریج حدیث حسن