کتب حدیث ›
صحيح ابن خزيمه › ابواب
› باب: اس بات کی دلیل کا بیان کہ پیاز و لہسن وغیرہ کھانے والے کو مساجد میں آنے کی ممانعت اُس وقت ہے جب اُس نے انہیں پکائے بغیر کچّا ہی کھایا ہوا
حدیث نمبر: 1666
نا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، نا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، عَنْ سَعِيدٍ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ ، عَنْ مَعْدَانَ ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ خَطَبَ النَّاسَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ ، ثُمّ قَالَ : " يَأَيُّهَا النَّاسُ ، إِنَّكُمْ تَأْكُلُونَ شَجَرَتَيْنِ مَا أَرَاهُمَا إِلا خَبِيثَتَيْنِ ، هَذَا الثُّومَ ، وَهَذَا الْبَصَلَ ، وَقَدْ كُنْتُ أَرَى الرَّجُلَ يُوجَدُ رِيحُهُ ، فَيُؤْخَذُ بِيَدِهِ ، فَيُخْرَجُ بِهِ إِلَى الْبَقِيعِ ، وَمَنْ كَانَ آكِلَهُمَا فَلْيُمِتْهُمَا طَبْخًا "
محمد اجمل بھٹی حفظہ اللہ
جناب معدان سے روایت ہے کہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے جمعہ کے دن لوگوں سے خطاب فرمایا اور کہا کہ لوگو ، بیشک تم ان دو پودوں سے کھاتے ہو اور میرے نزدیک یہ دونوں بدبُودار ہیں ، ایک لہسن ہے اور دوسرا پیاز ۔ اور میں ایک آدمی کو دیکھا کرتا تھا کہ اُس کے مُنہ سے ( ان کی ) بدبُو محسوس کی جاتی تو اُس کا ہاتھ پکڑ کر اُسے بقیع کی طرف نکال دیا جاتا تھا ۔ ( لہٰذا ) جو شخص انہیں کھانا چاہے تو وہ ان کو پکا کران کی بُوختم کرلے ۔ “