کتب حدیثصحيح ابن خزيمهابوابباب: مقتدیوں کے علاوہ امام کا صرف اپنے لئے دعا کرنا درست ہے
حدیث نمبر: Q1630
خِلَافَ الْخَبَرِ غَيْرِ الثَّابِتِ الْمَرْوِيِّ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَنَّهُ قَدْ خَانَهُمْ إِذَا خَصَّ نَفْسَهُ بِالدُّعَاءِ دُونَهُمْ.
محمد اجمل بھٹی حفظہ اللہ
اس ضعیف حدیث کے برخلاف جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے مروی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جب امام مقتدیوں کو چھوڑ کر صرف اپنے لئے دعا کرے تو اس نے ان کی خیانت کی ہے ۔ “
حوالہ حدیث صحيح ابن خزيمه / جماع أبواب قيام المأمومين خلف الإمام وما فيه من السنن / حدیث: Q1630
حدیث نمبر: 1630
نا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ ، وَيُوسُفُ بْنُ مُوسَى ، وَجَمَاعَةٌ ، قَالُوا : حَدَّثَنَا جَرِيرُ بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ الْقَعْقَاعِ ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا كَبَّرَ فِي الصَّلاةِ سَكَتَ هُنَيْهَةً ، فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ بِأَبِي وَأُمِّي ، مَا تَقُولُ فِي سُكُوتِكَ بَيْنَ التَّكْبِيرِ وَالْقِرَاءَةِ ؟ قَالَ : " أَقُولُ : اللَّهُمَّ بَاعِدْ بَيْنِي وَبَيْنَ خَطَايَايَ ، كَمَا بَاعَدْتَ بَيْنَ الْمَشْرِقِ وَالْمَغْرِبِ ، اللَّهُمَّ نَقِّنِي مِنْ خَطَايَايَ كَمَا يُنَقَّى الثَّوْبُ الأَبْيَضُ مِنَ الدَّنَسِ ، اللَّهُمَّ اغْسِلْنِي مِنْ خَطَايَايَ بِالثَّلْجِ وَالْمَاءِ وَالْبَرَدِ "
محمد اجمل بھٹی حفظہ اللہ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز کی تکبیر کہتے تو کچھ دیر خاموش رہتے ۔ میں نے عرض کی کہ اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ، میرے ماں باپ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر قربان ہوں ، آپ تکبیر اور قراءت کے درمیان اپنی خاموشی میں کیا دعا پڑھتے ہیں ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” میں یہ پڑھتا ہوں : « اللَّهُمَّ بَاعِدْ بَيْنِي وَبَيْنَ خَطَايَايَ كَمَا بَاعَدْتَ بَيْنَ الْمَشْرِقِ وَالْمَغْرِبِ، اللَّهُمَّ نَقِّنِي مِنْ خَطَايَايَ كَمَا يُنَقَّى الثَّوْبُ الأَبْيَضُ مِنْ الدَّنَسِ، اللَّهُمَّ اغْسِلْنِي مِنْ خَطَايَايَ بِاالثَّلْجِ وَالْمَاءِ وَالْبَرَدِ » ” اے میرے اللہ ، میرے اور میرے گناہوں کے درمیان اسی طرح دوری ڈال دے جس طرح تُو نے مشرق و مغرب کے درمیان دوری ڈالی ہے ۔ اے میرے پروردگار ، مجھے میری خطاؤں سے اسی طرح پاک صاف کر دے جس طرح سفید کپڑا میل کچیل سے صاف کیا جاتا ہے ۔ اے میرے اللہ ، مجھے میری خطاؤں سے برف ، پانی اور اولوں کے ساتھ دھودے ۔ “
حوالہ حدیث صحيح ابن خزيمه / جماع أبواب قيام المأمومين خلف الإمام وما فيه من السنن / حدیث: 1630
تخریج حدیث تقدم ۔۔۔
حدیث نمبر: 1631
قَالَ أَبُو بَكْرٍ : خَبَرُ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ فِي افْتِتَاحِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الصَّلاةَ مِنْ هَذَا الْبَابِ . وَهَذَا بَابٌ طَوِيلٌ ، قَدْ خَرَّجْتُهُ فِي كِتَابِ الْكَبِيرِ
محمد اجمل بھٹی حفظہ اللہ
امام ابوبکر رحمه الله فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے نماز شروع کرنے کے بارے میں مروی سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کی حدیث اسی باب کے متعلق ہے اور یہ باب بڑا طویل ہے ، میں نے اسے کتاب الکبیر میں بیان کیا ہے ۔
حوالہ حدیث صحيح ابن خزيمه / جماع أبواب قيام المأمومين خلف الإمام وما فيه من السنن / حدیث: 1631
تخریج حدیث تقدم ۔۔۔