کتب حدیثصحيح ابن خزيمهابوابباب: بیٹھ کر نماز پڑھانے والے امام کے پیچھے مقتدی کا کھڑے ہوکر نماز پڑھنا منع ہے
حدیث نمبر: 1615
نا يُوسُفُ بْنُ مُوسَى ، نا جَرِيرٌ ، وَوَكِيعٌ ، وَاللَّفْظُ لِجَرِيرٍ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ : رَكِبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَرَسًا بِالْمَدِينَةِ ، فَصَرَعَهُ عَلَى جِذْمِ نَخْلَةٍ ، فَانْفَكَّتْ قَدَمُهُ ، فَأَتَيْنَاهُ نَعُودُهُ ، فَوَجَدْنَاهُ فِي مَشْرُبَةٍ لِعَائِشَةَ يُسَبِّحُ جَالِسًا ، فَقُمْنَا خَلْفَهُ ، وَأَشَارَ إِلَيْنَا ، فَقَعَدْنَا ، فَلَمَّا قَضَى الصَّلاةَ ، قَالَ : " إِذَا صَلَّى الإِمَامُ جَالِسًا ، فَصَلُّوا جُلُوسًا ، وَإِذَا صَلَّى الإِمَامُ قَائِمًا ، فَصَلُّوا قِيَامًا ، وَلا تَفْعَلُوا كَمَا تَفْعَلُ أَهْلُ فَارِسَ بِعُظَمَائِهَا "
محمد اجمل بھٹی حفظہ اللہ
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ منوّرہ میں گھوڑے پر سوار ہوئے تو اُس نے آپ کو کھجور کے تنے پر گرا دیا - جس سے آپ کے پاؤں میں موچ آگئی تو ہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تیمارداری کے لئے آئے تو ہم نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے کمرے میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو بیٹھ کر نفل پڑھتے ہوئے پایا ۔ لہٰذا ہم بھی آپ کے پیچھے کھڑے ہو گئے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں ( بیٹھنے کا ) اشارہ کیا تو ہم بیٹھ گئے ۔ پھر جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز مکمّل کی تو فرمایا : ” جب امام بیٹھ کر نماز پڑھائے تو تم بھی بیٹھ کر نماز پڑھو اور جب امام کھڑے ہوکر نماز پڑھائے تو تم بھی کھڑے ہوکر نماز پڑھا کرو ، اور تم اس طرح نہ کیا کرو جس طرح پارسی اپنے بادشا ہوں اور رؤسا کے ساتھ کرتے ہیں ۔ “
حوالہ حدیث صحيح ابن خزيمه / جماع أبواب قيام المأمومين خلف الإمام وما فيه من السنن / حدیث: 1615
تخریج حدیث اسناده صحيح علي شرط مسلم