کتب حدیثصحيح ابن خزيمهابوابباب: مقتدیوں کے متنفر ہونے اور ان کے فتنے میں مبتلا ہونے کے ڈر سے امام کا لمبی نماز پڑھانا منع ہے
حدیث نمبر: 1605
نا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، نا إِسْمَاعِيلُ ، نا قَيْسٌ ، عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ عُقْبَةَ بْنِ عَمْرٍو . ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى ، نا الْمُعْتَمِرُ ، قَالَ : سَمِعْتُ إِسْمَاعِيلَ ، عَنْ قَيْسٍ ، قَالَ : قَالَ لَنَا أَبُو مَسْعُودٍ عُقْبَةُ بْنُ عَمْرٍو ، وَحَدَّثَنَا سَلْمُ بْنُ جُنَادَةَ ، نا وَكِيعٌ ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي خَالِدٍ ، عَنْ قَيْسِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ ، عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ ، قَالَ : أَتَى رَجُلٌ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : إِنِّي لأَتَأَخَّرُ عَنْ صَلاةِ الْغَدَاةِ مِنْ أَجْلِ فُلانٍ ، مِمَّا يُطِيلُ بِنَا ، فَمَا رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَشَدَّ غَضَبًا فِي مَوْعِظَةٍ مِنْهُ يَوْمَئِذٍ ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " يَأَيُّهَا النَّاسُ ، إِنَّ مِنْكُمْ لَمُنَفِّرِينَ ، فَأَيُّكُمْ صَلَّى بِالنَّاسِ فَلْيَتَجَوَّزْ ، فَإِنَّ فِيهِمُ الضَّعِيفَ وَالْكَبِيرَ وَذَا الْحَاجَةِ " . هَذَا حَدِيثُ بُنْدَارٍ
محمد اجمل بھٹی حفظہ اللہ
سیدنا ابومسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا تو اُس نے عرض کی کہ بیشک میں فلاں شخص کی وجہ سے صبح کی نماز سے پیچھے رہتا ہوں ، کیونکہ وہ ہمیں بڑی طویل نماز پڑھاتا ہے ، تو میں نے اس دن سے زیادہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو وعظ و نصیحت میں ناراض ہوتے ہوئے کبھی نہیں دیکھا ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ’’ اے لوگو ، بیشک تم میں سے کچھ لوگ دوسروں کو متنفر کرنے والے ہیں ۔ تم میں سے جو شخص بھی لوگوں کو امامت کرائے تو وہ ہلکی نماز پڑھائے کیونکہ لوگوں میں کمزور ، عمر رسیدہ اور حاجت مند افراد ( بھی ) ہوتے ہیں ۔ “ یہ بندار کی حدیث ہے ۔
حوالہ حدیث صحيح ابن خزيمه / جماع أبواب قيام المأمومين خلف الإمام وما فيه من السنن / حدیث: 1605
تخریج حدیث صحيح بخاري