کتب حدیثصحيح ابن خزيمهابوابباب: اہل دانش اور عقل و تمیز والے اشخاص کو صفوں کو چیر کر پہلی میں کھڑے ہونا جائز ہے جبکہ لوگ اُن کے آنے پر صفیں بناچکے ہوں
حدیث نمبر: 1574
نا إِسْمَاعِيلُ بْنُ بِشْرِ بْنِ مَنْصُورٍ السُّلَمِيُّ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بَزِيعٍ ، قَالا : حَدَّثَنَا عَبْدُ الأَعْلَى ، قَالَ مُحَمَّدٌ : ثنا عُبَيْدُ اللَّهِ ، قَالَ إِسْمَاعِيلُ : عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ ، قَالَ : " انْطَلَقَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصْلِحُ بَيْنَ بَنِي عَمْرِو بْنِ عَوْفٍ ، فَحَضَرَتِ الصَّلاةُ ، فَجَاءَ الْمُؤَذِّنُ إِلَى أَبِي بَكْرٍ ، فَأَمَرَهُ أَنْ يَتَقَدَّمَ النَّاسَ ، وَأَنْ يَؤُمَّهُمْ ، فَجَاءَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَخَرَقَ الصُّفُوفَ حَتَّى قَامَ فِي الصَّفِّ الْمُقَدَّمِ " . ثُمَّ ذَكَرَ الْحَدِيثَ بِطُولِهِ . وَهَذَا اللَّفْظُ الَّذِي ذَكَرَهُ لَفْظُ حَدِيثِ إِسْمَاعِيلَ
محمد اجمل بھٹی حفظہ اللہ
سیدنا سہل بن سعد رضی اللہ عنہ نے بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بنی عمرو بن عوف کے درمیان صلح کرانے کے لئے تشریف لے گئے۔ ( آپ کی عدم موجودگی میں نماز کا وقت ہو گیا تو مؤذن سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ ان کے پاس آیا اور اُن سے لوگوں کی امامت کرنے کی درخواست کی ۔ اُنہوں نے نماز شروع کر دی پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بھی تشریف لے آئے۔ آپ صفوں کو چیرتے ہوئے آگے بڑھے حتّیٰ کہ اگلی صف میں کھڑے ہو گئے ۔ پھر مکمّل حدیث بیان کی ۔ یہ الفاظ جناب اسماعیل کی روایت کے ہیں ۔
حوالہ حدیث صحيح ابن خزيمه / جماع أبواب قيام المأمومين خلف الإمام وما فيه من السنن / حدیث: 1574
تخریج حدیث تقدم ۔۔۔