کتب حدیث ›
صحيح ابن خزيمه › ابواب
› باب: صف بندی میں کندھوں اور گردنوں کو برابر رکھنے کے حُکم کا بیان
حدیث نمبر: 1545
نا مُحَمَّدُ بْنُ مَعْمَرِ بْنِ رِبْعِيٍّ الْقَيْسِيُّ ، نا مُسْلِمٌ يَعْنِي ابْنَ إِبْرَاهِيمَ ، نا أَبَانُ بْنُ يَزِيدَ الْعَطَّارُ ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " رُصُّوا صُفُوفَكُمْ ، وَقَارِبُوا بَيْنَهَا ، وَحَاذُوا بِالأَعْنَاقِ ، فَوَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ إِنِّي لأَرَى الشَّيْطَانَ يَدْخُلُ مِنْ خِلَلِ الصَّفِّ كَأَنَّهَا الْحَذَفُ " . قَالَ مُسْلِمٌ : يَعْنِي النَّقَدَ الصِّغَارَ ، النَّقَدُ الصِّغَارُ : أَوْلادُ الْغَنَمِ
محمد اجمل بھٹی حفظہ اللہ
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تم اپنی صفوں کو خوب ملاؤ اور صفوں کو قریب قریب رکھو اور اپنی گردنوں کو برابر رکھو ، اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں محمد کی جان ہے ، بلاشبہ میں دیکھتا ہوں کہ شیطان صفوں میں خالی جگہ سے داخل ہوجاتا ہے گویا کہ وہ بکری کا بچّہ ہو ۔ “ جناب مسلم بن ابراہیم کہتے ہیں کہ ” الخذف “ سے مراد بکری کا بچّہ ہے ۔