کتب حدیثصحيح ابن خزيمهابوابباب: اقامت سے فارغ ہونے کے بعد امام بات چیت کرسکتا ہے جبکہ کسی شخص کو ضرورت پیش آجائے
حدیث نمبر: 1527
حَدَّثَنَا بُنْدَارٌ ، نا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ صُهَيْبٍ ، عَنْ أَنَسٍ . ح وَحَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ ، نا ابْنُ عُلَيَّةَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ : " أُقِيمَتِ الصَّلاةُ وَرَجُلٌ يُنَاجِي رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى نَامَ أَصْحَابُهُ ، ثُمَّ قَامَ فَصَلَّى " . وَقَالَ الدَّوْرَقِيُّ : " أُقِيمَتِ الصَّلاةُ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَجِيٌّ بِرَجُلٍ فِي جَانِبِ الْمَسْجِدِ ، فَمَا قَامَ إِلَى الصَّلاةِ حَتَّى نَامَ بَعْضُ الْقَوْمِ "
محمد اجمل بھٹی حفظہ اللہ
سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نماز کی اقامت کہہ دی گئی اور ایک شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے باتیں کرنے لگا ، حتّیٰ کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سو گئے ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے اور نماز پڑھائی ۔ جناب الدورقی کی روایت میں یہ الفاظ ہیں کہ نماز کی اقامت ہو گئی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مسجد کے کونے میں ایک شخص کے ساتھ آہستہ آہستہ باتیں کر رہے تھے ، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نماز کے لئے اُس وقت کھڑے ہوئے جبکہ کچھ لوگ سو چکے تھے ۔
حوالہ حدیث صحيح ابن خزيمه / كتاب الإمامة فى الصلاة وما فيها من السنن مختصر من كتاب المسند / حدیث: 1527
تخریج حدیث صحيح بخاري