کتب حدیثصحيح ابن خزيمهابوابباب: مؤذّن کا امام کو نماز کے وقت کی اطلاع دینا
حدیث نمبر: 1524
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ الْعَلاءِ ، وَسَعِيدُ ابْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمَخْزُومِيُّ ، قَالا : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَمْرٍو ، قَالَ : سَمِعْتُ كُرَيْبًا مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : " بِتُّ عِنْدَ خَالَتِي مَيْمُونَةَ ، فَصَلَّى يَعْنِي النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا شَاءَ اللَّهُ ، ثُمَّ اضْطَجَعَ ، فَنَامَ حَتَّى نَفَخَ ، ثُمَّ أَتَاهُ الْمُؤَذِّنُ يُؤْذِنُهُ بِالصَّلاةِ ، فَخَرَجَ فَصَلَّى " . هَذَا حَدِيثُ عَبْدِ الْجَبَّارِ
محمد اجمل بھٹی حفظہ اللہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ میں اپنی خالہ سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا کے گھر رات کو سویا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز تہجد پڑھی ، جس قدر اللہ نے چاہی ۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم لیٹ گئے اور سو گئے حتّیٰ کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم خراٹے لینے لگے ۔ پھر مؤذن آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آپ کی نماز کی اطلاع کرنے کے لئے آیا ۔ لہٰذا آپ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لے گئے اور نماز پڑھائی ۔ یہ عبدالجبار کی حدیث ہے ۔
حوالہ حدیث صحيح ابن خزيمه / كتاب الإمامة فى الصلاة وما فيها من السنن مختصر من كتاب المسند / حدیث: 1524
تخریج حدیث صحيح بخاري