کتب حدیثصحيح ابن خزيمهابوابباب: ملاقات کے لئے آنے والے شخص کی امامت ممنوع ہے
حدیث نمبر: 1520
أنا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ ، نا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، حَدَّثَنَا أَبَانُ بْنُ يَزِيدَ ، عَنْ بُدَيْلٍ الْعُقَيْلِيِّ ، حَدَّثَنِي أَبُو عَطِيَّةَ رَجُلٌ مِنَّا ، وَحَدَّثَنَا سَلْمُ بْنُ جُنَادَةَ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ أَبَانَ بْنِ يَزِيدَ الْعَطَّارِ ، عَنْ بُدَيْلِ بْنِ مَيْسَرَةَ الْعُقَيْلِيِّ ، عَنْ رَجُلٍ مِنْهُمْ يُكْنَى أَبَا عَطِيَّةَ ، وَهَذَا حَدِيثُ الدَّوْرَقِيِّ ، قَالَ : أَتَانَا مَالِكُ بْنُ الْحُوَيْرِثِ ، فَحَضَرَتِ الصَّلاةُ ، فَقِيلَ لَهُ : تَقَدَّمْ ، قَالَ : لِيَؤُمَّكُمْ رَجُلٌ مِنْكُمْ ، فَلَمَّا صَلَّوْا ، قَالَ : سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " إِذَا زَارَ الرَّجُلُ الْقَوْمَ فَلا يَؤُمَّهُمْ ، وَلْيَؤُمَّهُمْ رَجُلٌ مِنْهُمْ " . وَفِي حَدِيثِ وَكِيعٍ ، قَالَ : " لِيَتَقَدَّمْ بَعْضُكُمْ ، حَتَّى أُحَدِّثَكُمْ لِمَ لا أَتَقَدَّمُ "
محمد اجمل بھٹی حفظہ اللہ
ابوعطیہ کہتے ہیں کہ سیدنا مالک بن حویرث رضی اللہ عنہ ہمارے پاس تشریف لائے تو نماز کا وقت ہو گیا ۔ اُن سے عرض کی گئی کہ آگے بڑھیں (اور جماعت کرا دیں ) ۔ اُنہوں نے فرمایا کہ تم ہی میں سے کسی شخص کو جماعت کرانی چاہیے ۔ جب اُنہوں نے نماز ادا کر لی تو فرمایا کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے : ”جب کوئی شخص کسی قوم کی ملاقات کے لئے جائے تو وہ اُنہیں امامت نہ کرائے ، اُن ہی میں سے کسی شخص کو اُن کی امامت کرانی چاہئے ۔ “ جناب وکیع کی روایت میں یہ الفاظ ہیں کہ انہوں نے فرمایا کہ تم میں سے کوئی شخص آگے بڑھے (اور جماعت کرائے ) میں تمہیں بتاؤں گا کہ میں آگے کیوں نہیں بڑھا۔
حوالہ حدیث صحيح ابن خزيمه / كتاب الإمامة فى الصلاة وما فيها من السنن مختصر من كتاب المسند / حدیث: 1520
تخریج حدیث حسن