کتب حدیث ›
صحيح ابن خزيمه › ابواب
› باب: جس شخص کی امامت کو ناپسند کیا جاتا ہو ، اُس کے لئے امامت کرانا منع ہے
حدیث نمبر: 1518
نا عِيسَى بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، نا ابْنُ وَهْبٍ ، عَنِ ابْنِ لَهِيعَةَ ، وَسَعِيدِ بْنِ أَبِي أَيُّوبَ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ دِينَارٍ الْهُذَلِيِّ : أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " ثَلاثَةٌ لا تُقْبَلُ مِنْهُمْ صَلاةٌ ، وَلا تَصْعَدُ إِلَى السَّمَاءِ ، وَلا تُجَاوِزُ رُءُوسَهُمْ : رَجُلٌ أَمَّ قَوْمًا وَهُمْ لَهُ كَارِهُونَ ، وَرَجُلٌ صَلَّى عَلَى جَنَازَةٍ وَلَمْ يُؤْمَرْ ، وَامْرَأَةٌ دَعَاهَا زَوْجُهَا مِنَ اللَّيْلِ فَأَبَتْ عَلَيْهِ "
محمد اجمل بھٹی حفظہ اللہ
عطاء بن دینار ہذلی سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تین افراد کی نماز قبول نہیں ہوتی ، نہ آسمان کی طرف چڑھتی ہے اور نہ وہ ان کے سروں سے اوپر اُٹھتی ہے ۔ وہ شخص جس نے کسی قوم کی امامت کرائی حالانکہ وہ اُسے ناپسند کرتے ہوں ۔ وہ شخص جو کہے بغیر جنازہ پڑھاتا ہے ۔ وہ عورت جسے اُس کا شوہر رات کو بلاتا ہے تو وہ انکار کر دیتی ہے ۔ “
حدیث نمبر: 1519
نا عِيسَى بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، نا ابْنُ وَهْبٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الْوَلِيدِ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، يَرْفَعُهُ يَعْنِي : مِثْلَ هَذَا . قَالَ أَبُو بَكْرٍ : أَمْلَيْتُ الْجُزْءَ الأَوَّلَ وَهُوَ مُرْسَلٌ ؛ لأَنَّ حَدِيثَ أَنَسٍ الَّذِي بَعْدَهُ حَدَّثَنَاهُ عِيسَى فِي عَقِبِهِ ، يَعْنِي بِمِثْلِهِ ، لَوْلا هَذَا لَمَا كُنْتُ أُخَرِّجُ الْخَبَرَ الْمُرْسَلَ فِي هَذَا الْكِتَابِ
محمد اجمل بھٹی حفظہ اللہ
عمرو بن ولید سیدنا انس بن مالک رضی االلہ عنہ سے مذکورہ بالا جیسی روایت بیان کرتے ہیں جسے سیدنا انس رضی اللہ عنہ مرفوعاً بیان کرتے ہیں ۔ امام ابوبکر رحمه الله فرماتے ہیں کہ میں نے حدیث کا پہلا حصہ لکھوا دیا ہے حالانکہ وہ مرسل ہے کیونکہ اس کے بعد آنے والی سیدنا انس رضی اللہ عنہ کی حدیث اسی کے مثل ہے جو ہمیں عیسٰی نے بیان کی ہے، اگر یہ روایت موجود نہ ہوتی تو میں اپنی اس کتاب میں مرسل روایت بیان نہ کرتا ۔