حدیث نمبر: 1517Q
وَاسْتِخْلَافِ الْإِمَامِ رَجُلًا مِنَ الرَّعِيَّةِ إِذَا غَابَ عَنْ حَضْرَةِ الْمَسْجِدِ الَّذِي يَؤُمُّ النَّاسَ فِيهِ فَتَكُونُ الْإِمَامَةُ بِأَمْرِهِ
حدیث نمبر: 1517
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ ، أَخْبَرَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ زَيْدٍ ، نا أَبُو حَازِمٍ ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ ، قَالَ : كَانَ قِتَالٌ بَيْنَ بَنِي عَمْرِو بْنِ عَوْفٍ ، فَبَلَغَ ذَلِكَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَصَلَّى الظُّهْرَ ، ثُمَّ أَتَاهُمْ لِيُصْلِحَ بَيْنَهُمْ ، ثُمَّ قَالَ لِبِلالٍ : " يَا بِلالُ ، إِذَا حَضَرَتِ الْعَصْرُ ، وَلَمْ آتِ ، فَمُرْ أَبَا بَكْرٍ فَلْيُصَلِّ بِالنَّاسِ " ، وَذَكَرَ الْحَدِيثَ بِطُولِهِ . وَذَكَرَ فِي الْخَبَرِ : أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَاءَ ، فَقَامَ خَلْفَ أَبِي بَكْرٍ ، وَأَوْمَأَ إِلَيْهِ : " امْضِ فِي صَلاتِكَ "
محمد اجمل بھٹی حفظہ اللہ
سیدنا سہل بن سعد رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ بنو عمرو بن عوف کے لوگوں کا باہمی جھگڑا ہو گیا ، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کی اطلاع ہوئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ظہر کی نماز پڑھائی ، پھر اُن کی صلح کرانے کے لئے اُن کے پاس تشریف لے گئے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا بلال رضی اللہ عنہ سے فرمایا: ”اے بلال ! جب نماز عصر کا وقت ہو جائے اور میں واپس نہ آؤں تو تم ابوبکر سے عرض کرنا کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھا دیں ۔ “ پھر مکمل حدیث بیان کی اور حدیث میں یہ بھی بیان کیا کی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم (نماز کے دوران میں ہی ) تشریف لے آئے اور سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پیچھے کھڑے ہو گئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اشارہ کیا کہ اپنی نماز جاری رکھو ۔