کتب حدیث ›
صحيح ابن خزيمه › ابواب
› باب: بیمار شخص کا اپنے گھر میں نماز باجماعت پڑھنے کا بیان ، جبکہ کسی علت کی وجہ سے وہ مسجد میں حاضر نہ ہوسکتا ہو
حدیث نمبر: 1487
نَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلاءِ بْنِ كُرَيْبٍ بِخَبَرٍ غَرِيبٍ ، حَدَّثَنَا قَبِيصَةُ ، حَدَّثَنَا وَرْقَاءُ بْنُ عُمَرَ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : وُثِبتْ رِجْلُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَدَخَلْنَا عَلَيْهِ ، فَوَجَدْنَاهُ جَالِسًا فِي حُجْرَةٍ لَهُ بَيْنَ يَدَيْهِ غُرْفَةٌ ، قَالَ : فَصَلَّى جَالِسًا ، فَقُمْنَا خَلْفَهُ فَصَلَّيْنَا ، فَلَمَّا قَضَى الصَّلاةَ ، قَالَ : " إِذَا صَلَّيْتُ جَالِسًا فَصَلُّوا جُلُوسًا ، وَإِذَا صَلَّيْتُ قَائِمًا صَلُّوا قِيَامًا ، وَلا تَقُومُوا كَمَا تَقُومُ فَارِسُ لِجَبَّارِيهَا وَمُلُوكِهَا "
محمد اجمل بھٹی حفظہ اللہ
سیدنا جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ٹانگ ( تکلیف یا درد کی وجہ سے چلنے پھرنے سے ) رک گئی تو ہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ( تیمار داری کے لئے ) گئے ۔ ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو بالا خانے کے سامنے آپ کے حجرہ مبارک میں بیٹھے ہوئے پایا ۔ فرماتے ہیں کہ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیٹھ کر نماز پڑھائی اور ہم نے آپ کے پیچھے کھڑے ہو کر نماز پڑھی ۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز مکمّل کی تو فرمایا : ” جب میں بیٹھ کر نماز پڑھاؤں تو تم بھی بیٹھ کر نماز پڑھا کرو ، اور جب میں کھڑے ہو کر نماز پڑھاؤں تو تم بھی کھڑے ہو کر نماز پڑھا کرو ، اور تم ( میرے گرد ) اس طرح کھڑے نہ ہوا کرو جس طرح فارسی لوگ اپنے سرداروں اور بادشاہوں کے لئے ( دست بستہ ) کھڑے ہوتے ہیں ۔