کتب حدیثصحيح ابن خزيمهابوابباب: بستیوں اور دیہاتوں میں نماز باجماعت ترک کرنے میں سختی کا بیان ، اور نماز باجماعت ترک کرنے والے پر شیطان کے غلبے کا بیان
حدیث نمبر: 1486
نَا مُوسَى بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمَسْرُوقِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، حَدَّثَنِي زَائِدَةُ بْنُ قُدَامَةَ ، عَنِ السَّائِبِ بْنِ حُبَيْشٍ الْكَلاعِيِّ ، ح وَحَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْلِمٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ ، نَا زَائِدَةُ بْنُ قُدَامَةَ ، نَا السَّائِبُ بْنُ حُبَيْشٍ الْكَلاعِيُّ ، عَنْ مَعْدَانَ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ الْيَعْمَرِيِّ ، قَالَ : قَالَ أَبُو الدَّرْدَاءِ : أَيْنَ مَسْكَنُكَ ؟ قُلْتُ : قَرْيَةٌ دُونَ حِمْصَ ، قَالَ أَبُو الدَّرْدَاءِ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " مَا مِنْ ثَلاثَةِ نَفَرٍ فِي قَرْيَةٍ ، وَلا بَدْوٍ ، فَلا تُقَامُ فِيهِمُ الصَّلاةُ إِلا اسْتَحْوَذَ عَلَيْهِمُ الشَّيْطَانُ ، فَعَلَيْكَ بِالْجَمَاعَةِ ، فَإِنَّمَا يَأْكُلُ الذِّئْبُ الْقَاصِيَةَ " ، وَقَالَ الْمَسْرُوقِيُّ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَقَالَ : " إِنَّ الذِّئْبَ يَأْخُذُ الْقَاصِيَةَ "
محمد اجمل بھٹی حفظہ اللہ
جناب معدان بن ابی طلحہ یعمری بیان کرتے ہیں کہ سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ نے پوچھا ، تمہارا گھر کہاں ہے ؟ میں نے جواب دیا کہ حمص سے پہلے ایک بستی میں ہے ۔ سیدنا ابودراء رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے کہ ” جس بستی اور گاؤں میں بھی تین شخص موجود ہوں پھر وہاں نماز ( باجماعت ) قائم نہ کی جائے تو شیطان ان پر غالب آجاتا ہے ۔ لہٰذا تم جماعت کو لازم پکڑ لو ۔ کیونکہ بھیڑیا دُور تنہا ہونے والی بھیڑ کو کھا جاتا ہے ۔ جناب مسروقی کی روایت میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” بیشک بھیڑیا دُور اور تنہا ہونے والی بھیڑ ( بکری ) کو پکڑ لیتا ہے ۔ “
حوالہ حدیث صحيح ابن خزيمه / كتاب الإمامة فى الصلاة وما فيها من السنن مختصر من كتاب المسند / حدیث: 1486
تخریج حدیث صحيح