کتب حدیثصحيح ابن خزيمهابوابباب: جب جمعہ اور عید ایک ہی دن میں جمع ہوجائیں تو بعض لوگوں کو جمعہ نہ پڑھنے کی رخصت کا بیان ،
حدیث نمبر: Q1464
إِنْ صَحَّ الْخَبَرُ فَإِنِّي لَا أَعْرِفُ إِيَاسَ بْنَ أَبِي رَمْلَةَ بِعَدَالَةٍ وَلَا جَرْحٍ
محمد اجمل بھٹی حفظہ اللہ
بشرطیکہ حدیث صحیح ہو ، کیونکہ مجھے ایاس بن ابی رملہ کی جرح اور تعدیل کا علم نہیں ہے
حوالہ حدیث صحيح ابن خزيمه / جماع أبواب صلاة العيدين، الفطر والأضحى، وما يحتاج فيهما من السنن / حدیث: Q1464
حدیث نمبر: 1464
نَا أَبُو مُوسَى ، نَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، نَا إِسْرَائِيلُ ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ الْمُغِيرَةِ ، عَنْ إِيَاسِ بْنِ أَبِي رَمْلَةَ ، أَنَّهُ شَهِدَ مُعَاوِيَةَ ، وَسَأَلَ زَيْدَ بْنَ أَرْقَمَ : شَهِدْتَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عِيدَيْنِ اجْتَمَعَا فِي يَوْمٍ ؟ قَالَ : نَعَمْ ، صَلَّى الْعِيدَ فِي أَوَّلِ النَّهَارِ ، ثُمَّ رَخَّصَ فِي الْجُمُعَةِ ، فَقَالَ : " مَنْ شَاءَ أَنْ يَجْمَعَ فَلْيَجْمَعْ "
محمد اجمل بھٹی حفظہ اللہ
جناب ایاس بن ابی رملہ سے روایت ہے کہ وہ حضرت معاویہ کے پاس حاضر تھے تو اُنہوں نے سیدنا زید بن ارقم رضی اللہ عنہ سے پوچھا ، تم رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک ہی دن میں دو عیدوں ( عید اور جمعہ ) میں شریک ہوئے ہو ؟ اُنہوں نے فرمایا کہ جی ہاں ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دن کے شروع میں عید کی نماز پڑھائی پھر آپ نے نماز جمعہ کی رخصت دے دی اور فرمایا : ” جو پڑھنا چاہے وہ پڑھ لے ۔ “
حوالہ حدیث صحيح ابن خزيمه / جماع أبواب صلاة العيدين، الفطر والأضحى، وما يحتاج فيهما من السنن / حدیث: 1464
تخریج حدیث صحيح