کتب حدیثصحيح ابن خزيمهابوابباب: اس بات کی دلیل بننے والی روایت کا بیان کہ عید الاضحٰی والے دن قربانی کرنے تک آدمی کا کچھ نہ کھانا افضل کام ہے
حدیث نمبر: Q1247
وَإِنْ كَانَ الْأَكْلُ مُبَاحًا قَبْلَ الْغُدُوِّ إِلَى الْمُصَلَّى، وَالْآكِلُ غَيْرَ حَارِجٍ وَلَا آثِمٍ
محمد اجمل بھٹی حفظہ اللہ
اگرچہ عیدگاہ کی طرف جانے سے پہلے کھانا جائز ہے اور کھانے والے پر کوئی حرج اور گناہ نہیں ہے
حوالہ حدیث صحيح ابن خزيمه / جماع أبواب صلاة العيدين، الفطر والأضحى، وما يحتاج فيهما من السنن / حدیث: Q1247
حدیث نمبر: 1427
نَا يُوسُفُ بْنُ مُوسَى ، نَا جَرِيرٌ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنِ الشَّعْبِيِّ ، عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ ، قَالَ : خَطَبَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ الأَضْحَى بَعْدَ الصَّلاةِ ، فَقَالَ أَبُو بُرْدَةَ بْنُ نِيَارٍ : ذَبَحْتُ شَاتِي وَتَغَدَّيْتُ قَبْلَ أَنْ آتِيَ الصَّلاةَ ، فَقَالَ : " شَاتُكَ شَاةُ لَحْمٍ " ، وَذَكَرَ الْحَدِيثَ قَالَ أَبُو بَكْرٍ : خَرَّجْتُهُ فِي كِتَابِ الأَضَاحِي
محمد اجمل بھٹی حفظہ اللہ
سیدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں عید الاضحٰی والے دن نماز کے بعد خطبہ ارشاد فرمایا ، تو سیدنا ابو بردہ بن نیار رضی اللہ عنہ نے عرض کی کہ ( اے اللہ کے رسول ) میں نے اپنی بکری نماز کے آنے سے پہلے ہی ذبح کرلی تھی اور کھانا بھی کھا لیا تھا ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تمہاری بکری تو گوشت کی بکری ہے ۔ ( قربانی نہیں ہوئی ) “ اور بقیہ حدیث بیان کی ۔ امام ابوبکر رحمه الله فرماتے ہیں کہ میں نے اس حدیث کو کتاب الاضاحی میں بیان کیا ہے ۔
حوالہ حدیث صحيح ابن خزيمه / جماع أبواب صلاة العيدين، الفطر والأضحى، وما يحتاج فيهما من السنن / حدیث: 1427
تخریج حدیث صحيح بخاري