حدیث نمبر: Q1409
وَالدَّلِيلِ عَلَى أَنَّهُ لَا يُؤَذَّنُ وَلَا يُقَامُ لِلتَّطَوُّعِ، وَإِنْ صُلِّيَتِ التَّطَوُّعُ فِي الْجَمَاعَةِ
محمد اجمل بھٹی حفظہ اللہ
اور اس بات کی دلیل کا بیان کہ نفل نماز کے لئے اذان اور اقامت نہیں کہی جائے گی ، اگرچہ نماز باجماعت ادا کی جائے
حدیث نمبر: 1409
نَا أَبُو طَالِبٍ زَيْدُ بْنُ أَخْزَمَ الطَّائِيُّ ، وَإِبْرَاهِيمُ بْنُ مَرْزُوقٍ ، قَالا : حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، قَالَ : سَمِعْتُ النُّعْمَانَ وَهُوَ ابْنُ رَاشِدٍ يُحَدِّثُ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : " خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمًا يَسْتَسْقِي ، فَصَلَّى بِنَا رَكْعَتَيْنِ وَجَهَرَ ، بِلا أَذَانٍ وَإِقَامَةٍ "
محمد اجمل بھٹی حفظہ اللہ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک روز بارش کی دعا کرنے کے لئے نکلے تو آپ نے ہمیں دو رکعات پڑھائیں اور جہری قراءت کی ، لیکن اذان اور اقامت نہیں کہلوائی ۔