کتب حدیثصحيح ابن خزيمهابوابباب: سورج کو گرہن لگنے کی علت و سبب کا بیان
حدیث نمبر: 1401M
فَإِنِّي لَا أَخَالُ أَبَا قِلَابَةَ سَمِعَ مِنَ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ، وَلَا أَقِفُ أَلِقَبِيصَةَ الْبَجَلِيِّ صُحْبَةٌ أَمْ لَا؟
محمد اجمل بھٹی حفظہ اللہ
بشر طیکہ اس سلسلے میں مروی حدیث صحیح ہو ، کیونکہ میرا خیال نہیں کہ جناب ابوقلابہ نے سیدنا نعمان بن بشر رضی اللہ عنہ سے سنا ہو اور مجھے یہ بھی معلوم نہیں ہو سکا کہ حضرت قبیصہ صحابی ہیں یا نہیں ۔
حوالہ حدیث صحيح ابن خزيمه / جماع أبواب صلاة الكسوف / حدیث: 1401M
تخریج حدیث انظر الحديث السابق
حدیث نمبر: 1402
قَالَ : ثنا بِخَبَرٍ قَبِيصَةُ مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَبِي قِلابَةَ ، عَنْ قَبِيصَةَ الْبَجَلِيِّ ، قَالَ : إِنَّ الشَّمْسَ انْخَسَفَتْ ، فَصَلَّى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَكْعَتَيْنِ حَتَّى انْجَلَتْ ، ثُمَّ قَالَ : " إِنَّ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ لا يَنْكَسِفَانِ لِمَوْتِ أَحَدٍ ، وَلَكِنَّهُمَا خَلْقَانِ مِنْ خَلْقِهِ ، وَيُحْدِثُ اللَّهُ فِي خَلْقِهِ مَا شَاءَ ، ثُمَّ إِنَّ اللَّهَ تَبَارَكَ وَتَعَالَى إِذَا تَجَلَّى لِشَيْءٍ مِنْ خَلْقِهِ خَشَعَ لَهُ ، فَأَيُّهُمَا انْخَسَفَ فَصَلُّوا حَتَّى يَنْجَلِيَ أَوْ يُحْدِثَ لَهُ اللَّهُ أَمْرًا "
محمد اجمل بھٹی حفظہ اللہ
حضرت قبیصہ بجلی رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ سورج کو گرہن لگا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دو رکعات ادا کیں حتّیٰ کہ سورج روشن ہو گیا ، پھر فرمایا : ” بلاشبہ سورج اور چاند کو کسی شخص کی موت کی وجہ سے گرہن نہیں لگتا ۔ لیکن یہ اللہ تعالیٰ کی مخلوق میں سے دو مخلوقات ہیں اور اللہ تعالیٰ اپنی مخلوق میں جو تبدیلی چاہتا ہے کرلیتا ہے پھر اللہ تعالیٰ جب اپنی مخلوق میں سے کسی چیز کے لئے تجلی فرماتے ہیں تو وہ عاجزی اور انکساری کا اظہار کرتی ہے ۔ لہٰذا سورج اور چاند میں سے جسے بھی گرہن لگے تو ان کے روشن ہونے تک نماز پڑھو ، یا اللہ تعالیٰ اس کے لئے کوئی نیا حُکم لے آئے ۔ “
حوالہ حدیث صحيح ابن خزيمه / جماع أبواب صلاة الكسوف / حدیث: 1402
تخریج حدیث اسناده ضعيف
حدیث نمبر: 1403
قَالَ أَبُو بَكْرٍ " وَأَمَّا خَبَرُ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ فَإِنَّ بُنْدَارًا حَدَّثَنَاهُ أَيْضًا ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ ، عَنْ أَبِي قِلابَةَ ، عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ ، قَالَ : انْكَسَفَتِ الشَّمْسُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ ، وَقَالَ : " فَإِذَا تَجَلَّى اللَّهُ لِشَيْءٍ مِنْ خَلْقِهِ خَشَعَ لَهُ "
محمد اجمل بھٹی حفظہ اللہ
سیدنا نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد مبارک میں سورج گرہن لگا پھر راوی نے مکمّل حدیث بیان کی ۔ اور یہ الفاظ بیان کیے ” پھر جب اللہ تعالیٰ اپنی مخلوق میں کسی چیز کے لئے تجلی فرماتے ہیں تو وہ چیز اللہ تعالیٰ کے لئے عاجزی کا اظہار کرتی ہے ۔ “
حوالہ حدیث صحيح ابن خزيمه / جماع أبواب صلاة الكسوف / حدیث: 1403
تخریج حدیث اسناده ضعيف
حدیث نمبر: 1404
نَا بُنْدَارٌ ، نَا عَبْدُ الْوَهَّابِ ، عَنْ خَالِدٍ ، عَنْ أَبِي قِلابَةَ ، عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ ، نَحْوَ حَدِيثِ أَيُّوبَ
محمد اجمل بھٹی حفظہ اللہ
امام صاحب سیدنا نعمان رضی اللہ عنہ کی حدیث کی ایک اور سند بیان کرتے ہیں ۔
حوالہ حدیث صحيح ابن خزيمه / جماع أبواب صلاة الكسوف / حدیث: 1404
تخریج حدیث اسناده ضعيف