حدیث نمبر: 1398
نَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، نَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : خَسَفَتِ الشَّمْسُ عَلَى عَهْدِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَصَلَّى بِالنَّاسِ ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ ، وَقَالَ فِي آخِرِهِ : ثُمَّ انْصَرَفَ ، فَقَالَ : " إِنَّ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ لا تَخْسِفَانِ لِمَوْتِ أَحَدٍ وَلا لِحَيَاتِهِ ، وَلَكِنَّهُمَا آيَتَانِ مِنْ آيَاتِ اللَّهِ ، فَإِذَا رَأَيْتُمْ ذَلِكَ فَافْزَعُوا إِلَى الصَّلاةِ " . وَهَذَا قَوْلُ الزُّهْرِيِّ ، قَالَ : وَزَادَ فِيهِ هِشَامٌ : " إِذَا رَأَيْتُمْ ذَلِكَ فَتَصَدَّقُوا ، وَصَلُّوا "
محمد اجمل بھٹی حفظہ اللہ
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد مبارک میں سورج گرہن لگا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو نمازپڑھائی ، پھر مکمّل حدیث بیان کی ۔ آخر میں یہ الفاظ روایت کیے ہیں ۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز سے فارغ ہوئے تو فرمایا : ” بیشک سورج اور چاند کو کسی شخص کی موت وحیا سے گرہن نہیں لگتا ، لیکن وہ دونوں اللہ تعالیٰ کی نشانیوں میں سے دو نشانیاں ہیں ۔ لہٰذا جب تم گرہن لگا دیکھو تو نماز کی طرف دوڑو ۔ امام زہری فرماتے ہیں کہ اس میں ہشام نے یہ اضافہ بیان کیا ہے کہ ” جب تم گرہن لگا دیکھو تو صدقہ خیرات کرو اور نماز پڑھو ۔ “
حدیث نمبر: 1399
حَدَّثَنَا أَبُو الأَزْهَرِ ، وَكَتَبْتُهُ مِنْ أَصْلِهِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يُونُسُ يَعْنِي ابْنَ مُحَمَّدٍ الْمُؤَدِّبِ ، حَدَّثَنَا فُلَيْحٌ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبَّادِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ ، عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ ، أَنَّهَا قَالَتْ : خَسَفَتِ الشَّمْسُ زَمَانَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ بِطُولِهِ ، وَقَالَ : " فَإِذَا رَأَيْتُمْ ذَلِكَ فَافْزَعُوا إِلَى الصَّلاةِ ، وَإِلَى ذِكْرِ اللَّهِ ، وَالصَّدَقَةِ "
محمد اجمل بھٹی حفظہ اللہ
سیدہ اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ مبارک میں سورج گرہن لگا ۔ پھر طویل حدیث بیان کی اور فرمایا : ” لہٰذا جب تم گرہن لگا دیکھو تو نماز کی طرف لپکو ، اللہ تعالیٰ کا ذکر کرو اور صدقہ وخیرات کرو ۔ “
حدیث نمبر: 1400
نَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، نَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الأُوَيْسِيُّ ، حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ خَالِدٍ ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أُمَيَّةَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنَّ الشَّمْسَ كَسَفَتْ يَوْمَ مَاتَ إِبْرَاهِيمُ ابْنُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَظَنَّ النَّاسُ أَنَّهَا كَسَفَتْ لِمَوْتِهِ ، فَقَامَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : " أَيُّهَا النَّاسُ ، إِنَّ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ آيَتَانِ مِنْ آيَاتِ اللَّهِ لا يَكْسِفَانِ لِمَوْتِ أَحَدٍ وَلا لِحَيَاتِهِ ، فَإِذَا رَأَيْتُمْ ذَلِكَ فَافْزَعُوا إِلَى الصَّلاةِ ، وَإِلَى ذِكْرِ اللَّهِ وَادْعُوا وَتَصَدَّقُوا "
محمد اجمل بھٹی حفظہ اللہ
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ سورج کو اس دن گرہن لگ گیا جس دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لخت جگر سیدنا ابراہیم رضی اللہ عنہ کی وفات ہوئی ۔ تو لوگوں نے سمجھا کہ سورج گرہن اُن کی موت کی وجہ سے لگا ہے ۔ چنانچہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ( خطاب کے لئے ) کھڑے ہوئے اور فرمایا : ” لوگو ، سورج اور چاند اللہ تعالیٰ کی نشانیوں میں سے دو نشانیاں ہیں ، انہیں کسی شخص کی موت یا زندگی کی وجہ سے گرہن نہیں لگتا ، لہٰذا جب تم گرہن لگا دیکھو تو نماز پڑھنے میں جلدی کرو ، اللہ تعالیٰ کے ذکر کی طرف لپکو ، دعا کیا کرو اور صدقہ و خیرات کیا کرو ۔ “