کتب حدیثصحيح ابن خزيمهابوابباب: نماز کسوف کے بعد امام کا خطبہ دینا
حدیث نمبر: 1395
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلاءِ بْنِ كُرَيْبٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ ، أَخْبَرَنَا هِشَامٌ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ فِي قِصَّةِ كُسُوفِ الشَّمْسِ ، وَقَالَ : فَلَمَّا تَجَلَّتْ قَامَ ، يَعْنِي النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَخَطَبَ النَّاسَ فَحَمِدَ اللَّهَ ، وَأَثْنَى عَلَيْهِ ، ثُمَّ قَالَ : " إِنَّ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ آيَتَانِ مِنْ آيَاتِ اللَّهِ لا يُخْسَفَانِ لِمَوْتِ أَحَدٍ ، وَلا لِحَيَاتِهِ ، يَا أُمَّةَ مُحَمَّدٍ ، وَاللَّهِ إِنْ مِنْ أَحَدٍ أَغْيَرَ مِنَ اللَّهِ أَنْ يَزْنِيَ عَبْدُهُ أَوْ أَمَتُهُ ، يَا أُمَّةَ مُحَمَّدٍ ، وَاللَّهِ أَوْ وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ ، لَوْ تَعْلَمُونَ مَا أَعْلَمُ لَضَحِكْتُمْ قَلِيلا وَلَبَكَيْتُمْ كَثِيرًا ، أَلا هَلْ بَلَّغْتُ ؟ "
محمد اجمل بھٹی حفظہ اللہ
جناب عروہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے سورج گرہن لگنے کا واقعہ روایت کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ جب سورج روشن ہوگیا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے اور آپ نے لوگوں سے خطاب فرمایا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ تعالیٰ کی حمد وثناء بیان کی پھر فرمایا : ” بلاشبہ سورج اور چاند اللہ تعالیٰ کی نشانیوں میں سے دو نشانیاں ہیں ، جنہیں کسی شخص کی موت یا زندگی کی وجہ سے گرہن نہیں لگتا ۔ اے اُمّت محمدیہ ، بیشک اللہ تعالیٰ کو اُس وقت بڑی غیرت آتی ہے جب اُس کا کوئی بندہ یا بندی زنا کرتے ہیں ۔ اے اُمّت محمدیہ ، اللہ کی قسم یا اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے ، اگر تم وہ سب کچھ جان لو جو میں جانتا ہوں تو تم بہت تھوڑا ہنسو اور بہت زیادہ رویا کرو ۔ خبردار ، کیا میں نے ( اللہ کا دین ) پہنچا دیا ہے ؟ “
حوالہ حدیث صحيح ابن خزيمه / جماع أبواب صلاة الكسوف / حدیث: 1395
تخریج حدیث تقدم ۔۔۔
حدیث نمبر: 1396
قَالَ أَبُو بَكْرٍ : وَفِي خَبَرِ ابْنِ مَسْعُودٍ " أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ خَطَبَ أَيْضًا قَبْلَ الصَّلاةِ " . فَيَنْبَغِي لِلإِمَامِ فِي الْكُسُوفِ أَنْ يَخْطُبَ قَبْلَ الصَّلاةِ وَبَعْدَهَا
محمد اجمل بھٹی حفظہ اللہ
امام ابوبکر رحمه الله فرماتے ہیں کہ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ کی روایت میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز سے پہلے بھی خطبہ ارشاد فرمایا تھا ۔ لہٰذا امام کو چاہیے کہ وہ نماز کسوف سے پہلے اور بعد میں خطبہ دے ۔
حوالہ حدیث صحيح ابن خزيمه / جماع أبواب صلاة الكسوف / حدیث: 1396
تخریج حدیث اسناده ضعيف