کتب حدیثصحيح ابن خزيمهابوابباب: مسجد میں عورتوں کے لئے خیمے اور بانس کے حجرے بنانے کی رخصت کا بیان
حدیث نمبر: 1332
نَا مُحَمَّدُ بْنُ عِبَادَةَ الْوَاسِطِيُّ ، نَا أَبُو أُسَامَةَ ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ " أَنَّ وَلِيدَةً سَوْدَاءَ كَانَتْ لِحَيٍّ مِنَ الْعَرَبِ فَأَعْتَقُوهَا ، وَكَانَتْ عِنْدَهُمْ ، فَخَرَجَتْ صَبِيَّةٌ لَهُمْ يَوْمًا عَلَيْهَا وِشَاحٌ مِنْ سُيُورٍ حُمْرٍ ، فَوَقَعَ مِنْهَا ، فَمَرَّتِ الْحُدَيَّاةُ فَحَسِبَتْهُ لَحْمًا فَخَطِفَتْهُ ، فَطَلَبُوهُ فَلَمْ يَجِدُوهُ ، فَاتَّهَمُوهَا بِهِ ، فَفَتَّشُوهَا حَتَّى فَتَّشُوا قُبُلَهَا ، قَالَ : فَبَيْنَا هُمْ كَذَلِكَ إِذْ مَرَّتِ الْحُدَيَّاةُ ، فَأَلْقَتِ الْوِشَاحَ ، فَوَقَعَ بَيْنَهُمْ ، فَقَالَتْ لَهُمْ : هَذَا الَّذِي اتَّهَمْتُمُونِي بِهِ ، وَأَنَا مِنْهُ بَرِيئَةٌ ، وَهَاهُوَ ذِي كَمَا تَرَوْنَ ، فَجَاءَتْ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَسْلَمَتْ ، فَكَانَ لَهَا فِي الْمَسْجِدِ خِبَاءٌ أَوْ حِفْشٌ ، قَالَتْ : فَكَانَتْ تَأْتِيَنِي فَتَجْلِسُ إِلَيَّ ، فَلا تَكَادُ تَجْلِسُ مِنِّي مَجْلَسَةً إِلا قَالَتْ : وَيَوْمُ الْوِشَاحِ مِنْ تَعَاجِيبِ رَبِّنَا إِلا أَنَّهُ مِنْ بَلْدَةِ الْكُفْرِ أَنْجَانِي فَقُلْتُ لَهَا : " مَا بَالُكَ لا تَجْلِسِينَ مِنِّي مَجْلِسًا إِلا قُلْتِ هَذَا ؟ " قَالَتْ : فَحَدَّثَتْنِي الْحَدِيثَ ، قَدْ خَرَّجْتُ ضَرَبَ الْقِبَابِ فِي الْمَسَاجِدِ لِلاعْتِكَافِ فِي كِتَابِ الاعْتِكَافِ "
محمد اجمل بھٹی حفظہ اللہ
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ ایک سیاہ فام عورت کسی عربی قبیلے کی لونڈی تھی ۔ اُنہوں نے اسے آزاد کر دیا اور وہ اُن کے ساتھ ہی رہتی تھی ۔ ایک روز اُن کی ایک لڑکی گھر سے باہر گئی ۔ اُس نے سرخ رنگ کے چمڑے کا کمر بند ہار پہنا ہوا تھا ۔ تو اُس کا وہ کمر بند ہار گر گیا ۔ وہاں سے ایک چیل گزری تو اُس نے اُسے گوشت سمجھ کر اُچک لیا ( اور چلی گئی ) قبیلہ والوں نے اُسے تلاش کیا مگر اُنہیں کمر بند ہار نہ ملا ـ اُنہوں نے اس کی چوری کا الزام اُس لونڈی پر لگا دیا ـ پھر اُس کی تلاشی لی حتّیٰ کہ اُس کی شرم گاہ میں بھی تلاش کیا گیا ـ وہ اسی تلاش اور تحقیق میں تھے کہ چیل وہاں سے گزری تو اُس نے وہ کمر بند ہار پھینک دیا ۔ وہ ہار اُن کے درمیان آکر گرا ، تو اُس لونڈی نے انہیں کہا کہ یہی وہ ہار ہے جس کا الزام تم نے مجھ پر لگایا تھا حالانکہ میں اس سے بالکل بری تھی ۔ اور اب وہ تمہارے سامنے پڑا ہے ، پھر وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت اقدس میں حاضر ہو کر مسلمان ہوگئی ، تو اُس کا خیمہ یا جھونپڑی مسجد میں ( لگادی گئی ) تھی ، سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ وہ میرے پاس آکر بیٹھا کرتی تھی ، اور جب بھی میرے پاس آکر بیٹھتی وہ یہ شعر پڑھتی ” وَيَوْمَ الْوِشَاِح مِنْ تَعَاجِيْبِ رَبَّنَا إِلَّا أَنَّهُ مِنْ بَلْدَةِ اَلكُفْرِ أَنْجَانِيْ “ ( اور کمربند ہار کی گمشدگی اور بازیابی کا دن میرے رب کے عجائبات میں سے ہے ۔ مگر یہ کہ اس نے مجھے سر زمین کفر سے نجات عطا فرمادی ۔ ) میں نے اُس سے کہا کہ کیا وجہ ہے کہ تم جب بھی میرے پاس بیٹھتی ہو تو یہ شعر پڑھی ہو ؟ تو اُس نے مجھے یہ واقعہ بیا ن کیا ۔ میں نے اعتکاف کے لئے مساجد میں گنبد نما خیمے لگا نے کے متعلق احادیث کتاب الاعتکاف میں بیان کی ہیں ۔
حوالہ حدیث صحيح ابن خزيمه / جماع أبواب الأفعال المباحة فى المسجد غير الصلاة وذكر الله / حدیث: 1332
تخریج حدیث صحيح بخاري