کتب حدیث ›
صحيح ابن خزيمه › ابواب
› باب: اس علت کا بیان جس کی وجہ سے مسجد میں تیروں کے پیکان پکڑ کر گزرنے کا حُکم دیا گیا ہے
حدیث نمبر: 1318
نَا مُوسَى بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمَسْرُوقِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، عَنْ بُرَيْدٍ ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ ، عَنْ أَبِي مُوسَى ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " إِذَا مَرَّ أَحَدُكُمْ فِي مَسْجِدِنَا أَوْ فِي سُوقِنَا وَمَعَهُ نَبْلٌ فَلْيُمْسِكْ عَلَى نِصَالِهَا بِكَفِّهِ أَنْ يُصِيبَ أَحَدًا مِنَ الْمُسْلِمِينَ مِنْهَا شَيْءٌ " ، أَوْ قَالَ : " فَلْيَقْبِضْ عَلَى نُصُولِهَا "
محمد اجمل بھٹی حفظہ اللہ
سیدنا ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جب تم میں سے کوئی شخص ہماری مسجد یا ہمارے بازار میں سے تیرلیکر گزرے تو اُسے چاہیے کہ وہ ان کے پھل اپنے ہاتھ میں پکڑلے ، تاکہ کسی مسلمان کو ان سے تکلیف نہ پہنچے ۔ “ یا فرمایا کہ ” ان کے پھلوں کو پکڑلے ۔ “