کتب حدیث ›
صحيح ابن خزيمه › ابواب
› باب: مساجد میں شعر پڑھنے کی ممانعت کا بیان- میرے علم کے مطابق اس کے الفاظ عام ہیں اور مراد خاص ہے
حدیث نمبر: 1306
نَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ الأَشَجُّ ، نَا أَبُو خَالِدٍ ، عَنِ ابْنِ عَجْلانَ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، " نَهَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْبَيْعِ وَالابْتِيَاعِ ، وَأَنْ تُنْشَدَ الضَّوَالُّ ، وَعَنْ تَنَاشُدِ الأَشْعَارِ ، وَعَنِ التَّحَلُّقِ لِلْحَدِيثِ يَوْمَ الْجُمُعَةِ قَبْلَ الصَّلاةِ " يَعْنِي فِي الْمَسْجِدِ
محمد اجمل بھٹی حفظہ اللہ
سیدنا عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ بنی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مسجد میں خریدوفروخت کرنے ، گم شدہ چیزوں کے اعلان کرنے ، شعر پڑھنے اور جمعہ والے دن نماز سے پہلے گفتگو کے لئے حلقے بنانے سے منع فرمایا ہے ۔