کتب حدیثصحيح ابن خزيمهابوابباب: مساجد میں جھاڑو دینے ، تنکے اور چیتھڑے اُٹھانے اور صفائی ستھرائی کرنے کا بیان
حدیث نمبر: 1299
نَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ الضَّبِّيُّ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ زَيْدٍ ، حَدَّثَنَا ثَابِتٌ ، عَنْ أَبِي رَافِعٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّ امْرَأَةً سَوْدَاءَ كَانَتْ تَقُمُّ الْمَسْجِدَ ، فَمَاتَتْ ، فَفَقَدَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَسَأَلَهُ عَنْهَا بَعْدَ أَيَّامٍ ، فَقِيلَ لَهُ : إِنَّهَا مَاتَتْ ، قَالَ : " فَهَلا آذَنْتُمُونِي " ، فَأَتَى قَبْرَهَا فَصَلَّى عَلَيْهَا
محمد اجمل بھٹی حفظہ اللہ
سیدنا ابوہر یرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک سیاہ رنگ کی عورت مسجد میں جھاڑو دیا کرتی تھی ، وہ فوت ہو گئی ( اور صحابہ کرام نے اُسے دفن کر دیا ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اُسے گم پایا تو کچھ دنوں کے بعد اُس کے بارے میں پوچھا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو بتایا گیا کہ وہ فوت ہو گئی ہے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تم نے مجھے اطلاع کیوں نہ کی ؟ “ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم اُس کی قبر پر تشریف لائے اور اُس کی نماز جنازہ پڑھی ۔ “
حوالہ حدیث صحيح ابن خزيمه / جماع أبواب فضائل المساجد وبنائها وتعظيمها / حدیث: 1299
تخریج حدیث صحيح بخاري
حدیث نمبر: 1300
نَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْحَكَمِ بْنِ أَبِي زِيَادٍ الْقَطَوَانِيُّ ، نَا خَالِدُ بْنُ مَخْلَدٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، عَنِ الْعَلاءِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّ امْرَأَةً كَانَتْ تَلْتَقِطُ الْخِرَقَ وَالْعِيدَانِ مِنَ الْمَسْجِدِ ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ فِي الصَّلاةِ عَلَى الْقَبْرِ
محمد اجمل بھٹی حفظہ اللہ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک عورت مسجد سے چیتھڑے اور تنکے وغیرہ اُٹھایا کرتی تھی ، پھر اس کی قبر پر نماز پڑھنے تک باقی حدیث بیان کی ۔
حوالہ حدیث صحيح ابن خزيمه / جماع أبواب فضائل المساجد وبنائها وتعظيمها / حدیث: 1300
تخریج حدیث اسناده حسن