کتب حدیثصحيح ابن خزيمهابوابباب: اس بات کی دلیل کا بیان کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے گھروں میں بعض نفلی نمازوں کے پڑھنے کا حُکم دیا ہے ۔ ساری نفلی نماز کا حُکم نہیں دیا
حدیث نمبر: Q1206
«إِذِ اللَّهُ جَلَّ وَعَلَا يَجْعَلُ فِي بَيْتِ الْمُصَلِّي مِنْ صَلَاتِهِ خَيْرًا» خَبَرُ ابْنِ عُمَرَ: «اجْعَلُوا مِنْ صَلَاتِكُمْ فِي بُيُوتِكُمْ» دَالٌّ عَلَى أَنَّهُ إِنَّمَا أَمَرَ بِأَنْ يَجْعَلَ بَعْضَ الصَّلَاةِ فِي الْبُيُوتِ لَا كُلَّهَا
حوالہ حدیث صحيح ابن خزيمه / جماع أبواب التطوع غير ما تقدم ذكرنا لها / حدیث: Q1206
حدیث نمبر: 1206
حَدَّثَنَا أَبُو مُوسَى ، نَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ ، عَنِ جَابِرٍ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ : عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " إِذَا قَضَى أَحَدُكُمْ صَلاتَهُ فِي الْمَسْجِدِ فَلْيَجْعَلْ لِبَيْتِهِ نَصِيبًا مِنْ صَلاتِهِ ؛ فَإِنَّ اللَّهَ جَاعِلٌ فِي بَيْتِهِ مِنْ صَلاتِهِ خَيْرًا " . رَوَى هَذَا الْخَبَرَ أَبُو خَالِدٍ الأَحْمَرُ ، وَأَبُو مُعَاوِيَةَ ، وَعَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، وَغَيْرُهُمْ عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ ، عَنْ جَابِرٍ ، لَمْ يَذْكُرُوا أَبَا سَعِيدٍ ، ثَنَاهُ أَبُو كُرَيْبٍ ، نَا أَبُو خَالِدٍ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، ح وَحَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ ، نَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، ح وَحَدَّثَنَا زِيَادُ بْنُ أَيُّوبَ ، نَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، وَعَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، قَالا : حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ
محمد اجمل بھٹی حفظہ اللہ
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جب تم میں سے کوئی شخص مسجد میں اپنی نماز پڑھ لے تو اُسے چاہیے کہ وہ اپنی نماز سے اپنے گھر کا حصّہ بھی رکھے ۔ پس بیشک اللہ تعالیٰ اس کی نماز کے باعث اس کے گھر میں خیر و برکت کر دیتا ہے ۔ “ یہ روایت ابوخالد احمر ، ابومعاویہ اور عبدہ بن سلیمان وغیرہ نے اپنی اپنی اسانید کے ساتھ سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے بیان کی ہے اور اُنہوں نے سیدنا ابوسعید رضی اللہ عنہ کا ذکر نہیں کیا ۔
حوالہ حدیث صحيح ابن خزيمه / جماع أبواب التطوع غير ما تقدم ذكرنا لها / حدیث: 1206
تخریج حدیث اسناده صحيح