کتب حدیثصحيح ابن خزيمهابوابباب: نماز مغرب کے بعد دو رکعت گھروں میں پڑھنے کے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے حُکم کی تفسیر کرنے والی روایت کا بیان ،
حدیث نمبر: Q1202
وَالدَّلِيلِ عَلَى أَنَّ الْأَمْرَ بِذَلِكَ أَمْرُ اسْتِحْبَابٍ لَا أَمْرُ إِيجَابٍ؛ إِذْ صَلَاةُ النَّوَافِلِ فِي الْبُيُوتِ أَفْضَلُ مِنَ النَّوَافِلِ فِي الْمَسَاجِدِ .
محمد اجمل بھٹی حفظہ اللہ
اور اس بات کی دلیل کا بیان کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ حُکم بطور استحباب تھا ، وجوبی حُکم نہیں تھا ، کیونکہ نفل نماز گھروں میں ادا کرنا مساجد میں ادا کرنے سے افضل ہے
حوالہ حدیث صحيح ابن خزيمه / جماع أبواب صلاة التطوع قبل الصلوات المكتوبات وبعدهن / حدیث: Q1202
حدیث نمبر: 1202
حَدَّثَنَا بُنْدَارٌ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ يَعْنِي ابْنَ مَهْدِيٍّ ، نَا مُعَاوِيَةُ بْنُ صَالِحٍ ، حَدَّثَنَا الْعَلاءُ بْنُ الْحَارِثِ ، عَنْ حَرَامٍ ، عَنْ عَمِّهِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَعْدٍ ، ح وَحَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ هَاشِمٍ ، نَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، عَنْ مُعَاوِيَةَ ، ح وَحَدَّثَنَا بَحْرُ بْنُ نَصْرٍ الْخَوْلانِيُّ ، نَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ ، نَا مُعَاوِيَةُ بْنُ صَالِحٍ ، عَنِ الْعَلاءِ بْنِ الْحَارِثِ ، عَنْ حَرَامِ بْنِ حَكِيمٍ ، عَنْ عَمِّهِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَعْدٍ ، قَالَ : سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الصَّلاةِ فِي بَيْتِي ، وَالصَّلاةِ فِي الْمَسْجِدِ ، فَقَالَ : " قَدْ تَرَى ، مَا أَقْرَبَ بَيْتِي مِنَ الْمَسْجِدِ ، وَلأَنْ أُصَلِّيَ فِي بَيْتِي أَحَبُّ مِنْ أَنْ أُصَلِّيَ فِي الْمَسْجِدِ إِلا الْمَكْتُوبَةَ " . هَذَا حَدِيثُ بُنْدَارٍ
محمد اجمل بھٹی حفظہ اللہ
سیدنا عبداللہ بن سعد رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اپنے گھر میں نماز کی ادائیگی اور مسجد میں نماز پڑھنے کے متعلق پوچھا ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تم دیکھ رہے ہو کہ میرا گھر مسجد سے کتنا قریب ہے ، لیکن فرض نمازوں کے علاوہ مجھے مسجد کی نسبت اپنے گھر میں نماز پڑھنا زیادہ محبوب ہے ۔ یہ جناب بندار کی حدیث ہے ۔ “
حوالہ حدیث صحيح ابن خزيمه / جماع أبواب صلاة التطوع قبل الصلوات المكتوبات وبعدهن / حدیث: 1202
تخریج حدیث اسناده صحيح