کتب حدیث ›
صحيح ابن خزيمه › ابواب
› باب: ایک مجمل غیر مفسر روایت کے ساتھ فرض نمازوں سے پہلے اور ان کے بعد نفل نماز کی فضیلت کا بیان
حدیث نمبر: 1185
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ ، وَزِيَادُ بْنُ أَيُّوبَ ، قَالا : حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، أَخْبَرَنَا دَاوُدُ بْنُ أَبِي هِنْدَ ، عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ سَالِمٍ ، عَنْ عَنْبَسَةَ بْنِ أَبِي سُفْيَانَ ، حَدَّثَتْنِي أُمُّ حَبِيبَةَ بِنْتُ أَبِي سُفْيَانَ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " مَنْ صَلَّى فِي يَوْمٍ ثِنْتَيْ عَشْرَةَ رَكْعَةً تَطَوُّعًا غَيْرَ فَرِيضَةٍ بُنِيَ لَهُ بَيْتٌ فِي الْجَنَّةِ "
محمد اجمل بھٹی حفظہ اللہ
سیدہ اُم حبیبہ بنت ابوسفیان رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جس شخص نے ایک دن میں فرض نمازوں کے علاوہ بارہ رکعات نفل نماز ادا کی ، اُس کے لئے جنّت میں گھر بنا دیا جاتا ہے ۔ “
حدیث نمبر: 1186
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَكِيمٍ ، حَدَّثَنَا مَحْبُوبُ بْنُ الْحَسَنِ ، حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ أَبِي هِنْدَ ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ أَهْلِ الطَّائِفِ ، يُقَالُ لَهُ : النُّعْمَانُ بْنُ سَالِمٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ أَوْسٍ ، عَنْ عَنْبَسَةَ بْنِ أَبِي سُفْيَانَ ، عَنْ أُمِّ حَبِيبَةَ ، قَالَتْ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " مَنْ صَلَّى لِلَّهِ فِي كُلِّ يَوْمٍ " ، فَذَكَرَ نَحْوَهُ
محمد اجمل بھٹی حفظہ اللہ
سیدہ اُم حبیبہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا : ’’ جس شخص نے اللہ کے لئے ہر روز نماز پڑھی “ پھر مذکورہ بالا روایت کی طرح بیان کیا ۔
حدیث نمبر: 1187
نَا يَعْقُوبُ الدَّوْرَقِيُّ ، حَدَّثَنَا ابْنُ عُلَيَّةَ ، أَخْبَرَنَا دَاوُدُ بْنُ أَبِي هِنْدَ ، حَدَّثَنِي النُّعْمَانُ بْنُ سَالِمٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ أَوْسٍ ، قَالَ : قَالَ عَنْبَسَةُ بْنُ أَبِي سُفْيَانَ : أَلا أُحَدِّثُكَ حَدِيثًا حَدَّثَتْنَاهُ أُمُّ حَبِيبَةَ ؟ قُلْتُ : بَلَى قَالَ : وَمَا رَأَيْتُهُ قَالَ ذَاكَ إِلا لِتُسَارَّ إِلَيْهِ ، قَالَ : حَدَّثَتْنَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " مَنْ صَلَّى فِي يَوْمٍ ثِنْتَيْ عَشْرَةَ سَجْدَةً تَطَوُّعًا بُنِيَ لَهُ بَيْتٌ فِي الْجَنَّةِ " . قَالَ عَنْبَسَةُ : مَا تَرَكْتُهُنَّ مُنْذُ سَمِعْتُهُنَّ مِنْ أُمِّ حَبِيبَةَ . قَالَ عَمْرُو بْنُ أَوْسٍ : مَا تَرَكْتُهُنَّ مُنْذُ سَمِعْتُهُنَّ مِنْ عَنْبَسَةَ . قَالَ النُّعْمَانُ : مَا تَرَكْتُهُنَّ مُنْذُ سَمِعْتُهُنَّ مِنْ عَمْرٍو . قَالَ دَاوُدُ : أَمَّا نَحْنُ فَإِنَّا نُصَلِّي وَنَتْرُكُ . قَالَ ابْنُ عُلَيَّةَ : هَذَا أَوْ نَحْوُهُ . قَالَ بَكْرٍ : أَسْقَطَ هُشَيْمٌ مِنَ الإِسْنَادِ عَمْرَو بْنَ أَوْسٍ ، وَالصَّحِيحُ حَدِيثُ ابْنِ عُلَيَّةَ ، وَهُوَ فِي الْبَابِ الثَّانِي ، وَمَا رَوَاهُ مَحْبُوبُ بْنُ الْحَسَنِ ْبُوبُ بْنُ الْحَسَنِ 1127
محمد اجمل بھٹی حفظہ اللہ
حضرت عنبسہ بن ابوسفیان نے عمرو بن اوس سے فرمایا کہ کیا میں تمہیں وہ حدیث نہ سناؤں جو مجھے سیدہ اُم حبیبہ رضی اللہ عنہا نے بیان کی ہے ؟ میں نے کہا کہ ضرور سنائیں ۔ میرا خیال ہے کہ یہ بات اُنہوں نے حدیث کی طرف رغبت کرنے اور اس میں خوشی محسوس کرنے کے لئے کہی ۔ وہ فرماتے ہیں کہ ہمیں سیدہ اُم حبیبہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ بیشک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جس شخص نے ایک دن میں بارہ رکعات نفل ادا کئے ، اُس کے لئے جنّت میں گھر بنادیا جاتا ہے ۔ “ حضرت عنبسہ کہتے ہیں کہ جب سے میں نے ان کے بارے میں سیدہ اُم حبیبہ رضی اللہ عنہا سے سنا ہے میں نے یہ رکعات کبھی نہیں چھوڑیں ۔ جناب عمرو بن اوس کہتے ہیں کہ میں نے یہ رکعات کبھی ترک نہیں کیں جب سے میں نے حضرت عنبسہ سے ان کے بارے میں حدیث سنی ہے ۔ جناب نعمان کہتے ہیں کہ جب سے میں نے عمرو سے ان کے متعلق سنا ہے ، میں نے کبھی انہیں نہیں چھوڑا ۔ جناب داؤد کہتے ہیں کہ مگر ہم تو کبھی انہیں ادا کر لیتے ہیں اور کبھی چھوڑ بھی دیتے ہیں ۔ جناب ابن علیہ نے بھی یہی کلمات یا اس جیسے کلمات کہے ہیں ۔ امام ابوبکر رحمه الله فرماتے ہیں کہ جناب ہشیم نے اس سند سے عمرو بن اوس کا واسطہ گرا دیا ہے ۔ جبکہ صحیح حدیث ابن علیہ کی ہے جو دوسرے باب میں مذکور ہے اور اسے محبوب بن حسن نے بیان کیا ہے ۔