کتب حدیثصحيح ابن خزيمهابوابباب: اس روایت کا بیان جسے بعض کم علم لوگ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کی سابقہ روایت کے خلاف سمجھتے ہیں
حدیث نمبر: 1166
حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى الصَّدَفِيُّ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَنَّ مَالِكًا حَدَّثَهُ ، عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، أَخْبَرَهُ أَنَّهُ سَأَلَ عَائِشَةَ : كَيْفَ كَانَتْ صَلاةُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي رَمَضَانَ ؟ فَقَالَتْ : مَا كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَزِيدُ فِي رَمَضَانَ وَلا فِي غَيْرِهِ عَلَى إِحْدَى عَشْرَةَ رَكْعَةً ، يُصَلِّي أَرْبَعًا ، فَلا تَسَلْ عَنْ حُسْنِهِنَّ وَطُولِهِنَّ ، ثُمَّ يُصَلِّي أَرْبَعًا فَلا تَسَلْ عَنْ حُسْنِهِنَّ وَطُولِهِنَّ ، ثُمَّ يُصَلِّي ثَلاثًا ، قَالَتْ عَائِشَةُ : فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ أَتَنَامُ قَبْلَ أَنْ تُوتِرَ ؟ فَقَالَ : " يَا عَائِشَةُ ، إِنَّ عَيْنَيَّ تَنَامَانِ ، وَلا يَنَامُ قَلْبِي "
محمد اجمل بھٹی حفظہ اللہ
حضرت ابوسلمہ بن عبد الرحمان بیان کرتے ہیں کہ اُنہوں نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی رمضان المبارک میں نماز کی کیفیت کے متعلق پوچھا تو اُنہوں نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رمضان المبارک اور دیگر مہینوں میں گیارہ رکعات سے زیادہ ادا نہیں کرتے تھے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم چار رکعات ادا کرتے ، ان کی خوبصورتی اور طوالت کے متعلق مت پوچھو ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم چار رکعات ادا کرتے ، ان کی خوبصورتی اور طوالت کے متعلق مت پوچھو پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم تین رکعات ادا کرتے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں ، میں نے عرض کی کہ اے اللہ کے رسول ، کیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم وتر پڑھنے سے پہلے سو جاتے ہیں ؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اے عائشہ ، بیشک میری آنکھیں سوتی ہیں اور میرا دل نہیں سوتا ۔ “
حوالہ حدیث صحيح ابن خزيمه / جماع أبواب صلاة التطوع بالليل / حدیث: 1166
تخریج حدیث صحيح بخاري