کتب حدیثصحيح ابن خزيمهابوابباب: نماز تہجّد میں قراءت خوب ٹھہر ٹھہر کر خوش الحانی کے ساتھ کرنے کا بیان
حدیث نمبر: 1158
حَدَّثَنَا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ الْمُرَادِيُّ ، نَا شُعَيْبٌ ، نَا اللَّيْثُ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ ، عَنْ يَعْلَى بْنِ مَمْلَكٍ ، أَنَّهُ سَأَلَ أُمَّ سَلَمَةَ عَنْ قِرَاءَةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَصَلاتِهِ ، فَقَالَتْ : " وَمَا لَكُمْ وَصَلاتُهُ ؟ كَانَ يُصَلِّي ، ثُمَّ يَنَامُ قَدْرَ مَا صَلَّى ، ثُمَّ يُصَلِّي قَدْرَ مَا نَامَ ، ثُمَّ يَنَامُ قَدْرَ مَا صَلَّى حَتَّى يُصْبِحَ " ، وَنَعَتَتْ لَهُ قِرَاءَتَهُ ، فَإِذَا هِيَ تَنْعِتُ قِرَاءَةً مُفَسَّرَةً حَرْفًا حَرْفًا
محمد اجمل بھٹی حفظہ اللہ
جناب یعلی بن مملک سے مروی ہے کہ اُنہوں نے سیدہ اُم سلمہ رضی اللہ عنہا سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی قراءت اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کے متعلق سوال کیا تو اُنہوں نے فرمایا کہ تمہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز سے کیا نسبت ۔ ( وہ تو بہت عظیم اور اعلیٰ تھی ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز تہجّد پڑھتے پھر نماز کی مقدار کے برابر سو جاتے ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم سونے کے وقت کے برابر نماز پڑھتے ، پھر نماز کی مقدار کے برابر سو جاتے حتیٰ کہ صبح ہو جاتی ، اور اُنہوں نے اس کے لئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی قراءت کی کیفیت بیان کی تو آپ نے کی قراءت الگ الگ ایک ایک حرف کے ساتھ بیان کی
حوالہ حدیث صحيح ابن خزيمه / جماع أبواب صلاة التطوع بالليل / حدیث: 1158
تخریج حدیث اسناده ضعيف