کتب حدیثصحيح ابن خزيمهابوابباب: نماز تہجّد کے لئے خاوند کا اپنی بیوی کو اور بیوی کا اپنے خاوند کو جگانے کی فضیلت کا بیان
حدیث نمبر: 1148
نَا أَبُو قُدَامَةَ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، قَالا : حَدَّثَنَا يَحْيَى ، قَالَ بُنْدَارٌ ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ عَجْلانَ ، وَقَالَ أَبُو قُدَامَةَ ، عَنِ ابْنِ عَجْلانَ ، عَنِ الْقَعْقَاعِ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " رَحِمَ اللَّهُ رَجُلا قَامَ مِنَ اللَّيْلِ فَصَلَّى ، وَأَيْقَظَ امْرَأَتَهُ ، فَإِنْ أَبَتْ نَضَحَ فِي وَجْهِهَا الْمَاءَ ، رَحِمَ اللَّهُ امْرَأَةً قَامَتْ مِنَ اللَّيْلِ فَصَلَّتْ ، وَأَيْقَظَتْ زَوْجَهَا فَإِنْ أَبَى نَضَحَتْ فِي وَجْهِهِ الْمَاءَ "
محمد اجمل بھٹی حفظہ اللہ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اللہ تعالیٰ اُس شخص پر رحم فرمائے جو رات کو اُٹھ کر نماز پڑھتا ہے اور اپنی بیوی کو بھی ( تہجّد کے لئے ) جگا دیتا ہے ۔ اگر وہ انکار کرتی ہے تو اُس کے منہ پر پانی کے چھینٹے مارتا ہے اور اللہ اُس عورت پر رحم فرمائے جو رات کو جاگتی ہے ، تو نماز پڑھتی ہے اور اپنے خاوند کو بھی جگاتی ہے ۔ اگر وہ ( اُٹھنے سے ) انکار کرے تو اُس کے چہرے پر پانی چھڑک دیتی ہے ۔ ( تاکہ وہ اُٹھ جائے ) “
حوالہ حدیث صحيح ابن خزيمه / جماع أبواب صلاة التطوع بالليل / حدیث: 1148
تخریج حدیث اسناده صحيح