کتب حدیثصحيح ابن خزيمهابوابباب: قبولیت کی امید کے ساتھ رات کے آخری نصف حصّے میں دعا مانگنا مستحب ہے
حدیث نمبر: 1146
نَا نَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنِ الأَغَرِّ ، قَالَ : أَشْهَدُ عَلَى أَبِي هُرَيْرَةَ ، وَأَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ أَنَّهُمَا شَهِدَا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " إِنَّ اللَّهَ يُمْهِلُ حَتَّى يَذْهَبَ ثُلُثُ اللَّيْلِ فَيَنْزِلُ ، فَيَقُولُ : هَلْ مِنْ سَائِلٍ ؟ هَلْ مِنْ تَائِبٍ ؟ هَلْ مِنْ مُسْتَغْفِرٍ مِنْ ذَنْبٍ ؟ " ، فَقَالَ لَهُ رَجُلٌ : حَتَّى مَطْلَعِ الْفَجْرِ ؟ قَالَ : " نَعَمْ "
محمد اجمل بھٹی حفظہ اللہ
سیدنا ابوہریرہ اور سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہما رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں گواہی دیتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” بیشک اللہ تعالیٰ مہلت دیتے ہیں ، حتیٰ کہ رات کا ایک تہائی حصّہ گزر جاتا ہے ۔ پھر وہ ( آسمان دنیا پر ) نازل ہوتا ہے اور فرماتا ہے : ” کیا کوئی سوال کرنے والا ہے ؟ کوئی توبہ کرنے والا ہے ؟ کیا کوئی گناہوں سے بخشش مانگنے والا ہے ؟ “ ایک شخص نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا تو کیا یہ ( رحمت و برکات کا ) سلسلہ طلوع فجر تک جاری رہتا ہے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” ہاں “ ۔
حوالہ حدیث صحيح ابن خزيمه / جماع أبواب صلاة التطوع بالليل / حدیث: 1146
تخریج حدیث صحيح مسلم
حدیث نمبر: 1147
حَدَّثَنَا بَحْرُ بْنُ نَصْرِ بْنِ سَابَقٍ الْخَوْلانِيُّ ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي مُعَاوِيَةُ بْنُ صَالِحٍ ، حَدَّثَنِي أَبُو يَحْيَى وَهُوَ سُلَيْمُ بْنُ عَامِرٍ ، وَضَمْرَةُ بْنُ حَبِيبٍ ، وَأَبُو طَلْحَةَ هُوَ نُعَيْمُ بْنُ زِيَادٍ ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ الْبَاهِلِيِّ ، قَالَ : حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ عَنْبَسَةَ ، قَالَ : أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ نَازِلٌ بِعُكَاظَ ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ ، وَقَالَ : فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ! فَهَلْ مِنْ دَعْوَةٍ أَقْرَبُ مِنْ أُخْرَى ، أَوْ سَاعَةٍ ؟ قَالَ : " نَعَمْ ، إِنَّ أَقْرَبَ مَا يَكُونُ الرَّبُّ مِنَ الْعَبْدِ جَوْفَ اللَّيْلِ الآخِرِ ، فَإِنِ اسْتَطَعْتَ أَنْ تَكُونَ مِمَّنْ يَذْكُرُ اللَّهَ فِي تِلْكَ السَّاعَةِ فَكُنْ "
محمد اجمل بھٹی حفظہ اللہ
سیدنا عمرو بن عبسہ رضی اللہ عنہ بیان کر تے ہیں کہ میں رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت اقدس میں حاضر ہوا جب کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم عکاظ ( کے بازار ) میں تشریف فرما تھے ۔ پھر مکمّل حدیث بیان کی ۔ وہ کہتے ہیں کہ میں نے عرض کی کہ اے اللہ کے رسول ، کیا کوئی دعا دوسری دعا سے یا کوئی گھڑی دوسری گھڑی سے قبولیت میں زیادہ قریب ہوتی ہے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” ہاں ، بلاشبہ رات کے آخری ( نصف ) حصّے کے وسط میں رب تعالیٰ بندے کے بہت زیادہ قریب ہوتا ہے لہٰذا اگر تم اس گھڑی میں اللہ تعالیٰ کا ذکر کرنے والوں میں شامل ہونے کی طاقت رکھو تو اُن میں شامل ہو جاؤ ۔ “
حوالہ حدیث صحيح ابن خزيمه / جماع أبواب صلاة التطوع بالليل / حدیث: 1147
تخریج حدیث اسناده صحيح