کتب حدیث ›
صحيح ابن خزيمه › ابواب
› باب: قیام اللیل ( نماز تہجّد ) کے فرض و واجب ہونے کے بعد اس کی فرضیت کے منسوخ ہونے کے بارے میں مروی حدیث کا بیان
حدیث نمبر: 1127
نَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، وَقَرَأَ ، عَلْيَنَا مِنْ كِتَابِهِ ، نَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ ، وَحَدَّثَنَا بُنْدَارٌ أَيْضًا ، نَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، عَنْ سَعِيدٍ ، ح وَحَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ إِسْحَاقَ الْهَمْدَانِيُّ ، نَا عَبْدَةُ ، عَنْ سَعِيدٍ ، ح وَحَدَّثَنَا بُنْدَارٌ ، حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، ح وَحَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْمِقْدَامِ ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ سَوَاءٍ ، عَنْ سَعِيدٍ جَمِيعًا ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ زُرَارَةَ بْنِ أَوْفَى ، عَنْ سَعْدِ بْنِ هِشَامٍ ، قَالَ : أَتَيْتُ عَلَى حَكِيمِ بْنِ أَفْلَحَ فَانْطَلَقْتُ أَنَا وَهُوَ إِلَى عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا ، فَاسْتَأْذَنَّا ، فَأُدْخِلْنَا عَلَيْهَا ، فَقُلْنَا : يَا أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ نَبِّئِينِي عَنْ خُلُقِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَتْ : " أَلَسْتَ تَقْرَأُ الْقُرْآنَ ، تَعْنِي قَوْلَهُ وَإِنَّكَ لَعَلَى خُلُقٍ عَظِيمٍ سورة القلم آية 4 " ، قَالَ : بَلَى قَالَتْ : " فَإِنَّ خُلُقَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ الْقُرْآنَ " ، فَقُلْتُ : يَا أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ ، نَبِّئِينِي عَنْ قِيَامِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَتْ : " أَلَسْتَ تَقْرَأُ هَذِهِ السُّورَةِ يَا أَيُّهَا الْمُزَّمِّلُ " ، قَالَ : فَقُلْتُ : بَلَى ، قَالَتْ : " فَإِنَّ اللَّهَ فَرَضَ الْقِيَامَ فِي أَوَّلِ هَذِهِ السُّورَةِ ، فَقَامَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَصْحَابُهُ حَوْلا ، حَتَّى انْتَفَخَتْ أَقْدَامُهُمْ ، وَأَمْسَكَ خَاتِمَتَهَا اثْنَيْ عَشَرَ شَهْرًا فِي السَّمَاءِ ، ثُمَّ أَنْزَلَ اللَّهُ التَّخْفِيفَ فِي آخِرِ هَذِهِ السُّورَةِ ، فَصَارَ قِيَامُ اللَّيْلِ تَطَوُّعًا بَعْدَ فَرِيضَةٍ " ، ثُمَّ ذَكَرُوا الْحَدِيثَ ، وَفِي آخِرِ الْحَدِيثِ ، قَالَ : فَأَتَيْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ فَأَخْبَرْتُهُ بِحَدِيثِهَا ، فَقَالَ : صَدَقَتْ
محمد اجمل بھٹی حفظہ اللہ
سیدنا سعد بن ہشام بیان کرتے ہیں کہ میں حضرت حکیم بن افلح کے پاس آیا ، پھر ہم سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں گئے ، ہم نے اجازت طلب کی تو ہمیں حاضری کی اجازت مل گئی ۔ ہم نے عرض کی اے اُم المؤمنین ، مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اخلاق حسنہ کے بارے میں بتائیں ۔ تو اُنہوں نے فرمایا ، کیا آپ قرآن مجید کی تلاوت نہیں کرتے ۔ ان کی مراد اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان تھا : « وَإِنَّكَ لَعَلَىٰ خُلُقٍ عَظِيمٍ » [ سورہ القلم : 4 ] ” یقیناًً ً آپ خلق عظیم پر ( کاربند ) ہیں ۔ تو اُنہوں نے کہا ، کیوں نہیں ، ( میں یہ فرمان تلاوت کرتا ہوں ) اُم المؤمنین نے فرمایا ، بلاشبہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا اخلاق قرآن ہی تھا ۔ پھر میں نے عرض کی کہ اے اُم المؤمنین ، مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے قیام ( رات کی نماز ) کے متعلق خبر دیں ۔ اُنہوں نے فرمایا تو کیا تم سورہ المزمل کی تلاوت نہیں کرتے ۔ وہ کہتے ہیں ، میں نے عرض کی کہ جی کرتا ہوں پس اُنہوں نے فرمایا ، بیشک اللہ تعالیٰ نے اس سورت کی ابتدا میں رات کا قیام فرض کیا تھا ۔ تو اللہ کے نبی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کرام نے ایک سال تک رات کا قیام کیا حتیٰ کہ ان کے قدم سوجھ گئے ۔ اور اللہ تعالیٰ نے اس سورت کے آخری حصّہ کو آسمان میں بارہ مہنیے روکے رکھا ۔ پھر اللہ تعالیٰ نے اس سورت کے آخر میں تخفیف نازل فرمائی ۔ لہٰذا رات کا قیام فرض ہونے کے بعد نفل ہوگیا ۔ پھر اُنہوں نے بقیہ حدیث بیان کی ۔ حدیث کے آخر میں یہ الفاظ ہیں ۔ تو میں سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کی خدمت میں حاضر ہوا اور اُنہیں اُم المؤمنین کی گفتگو سنائی ۔ تو انہوں نے فرمایا کہ ( اماں جی نے ) سچ فرمایا ہے ۔