حدیث نمبر: Q1118
إِذَا نَامَ الْمَرْءُ عَنْهُمَا فَلَمْ يَسْتَيْقِظْ إِلَّا بَعْدَ طُلُوعِ الشَّمْسِ
محمد اجمل بھٹی حفظہ اللہ
جبکہ نمازی انہیں ادا کرنے سے سو یا رہ جائے اور سورج طلوع ہونے کے بعد بیدار ہو
حدیث نمبر: 1118
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ كَيْسَانَ ، حَدَّثَنَا أَبُو حَازِمٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : أَعْرَسْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمْ نَسْتَيْقِظْ حَتَّى طَلَعَتِ الشَّمْسُ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لِيَأْخُذْ كُلُّ إِنْسَانٍ بِرَأْسِ رَاحِلَتِهِ ؛ فَإِنَّ هَذَا مَنْزِلٌ حَضَرَنَا فِيهِ الشَّيْطَانُ " ، فَفَعَلْنَا ، فَدَعَا بِالْمَاءِ فَتَوَضَّأَ ، ثُمَّ صَلَّى سَجْدَتَيْنِ حِينَ أُقِيمَتِ الصَّلاةُ ، وَصَلَّى الْغَدَاةَ
محمد اجمل بھٹی حفظہ اللہ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی معیت میں رات کے آخری حصّے میں آرام کے لئے پڑاؤ ڈالا ، پھر ہم سورج طلوع ہونے کے بعد ہی بیدار ہوئے ۔ پس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”ہر شخص اپنی سواری کی لگام پکڑ لے ( اور یہاں سے چل دے ) کیونکہ اس جگہ شیطان ہمارے پاس آ گیا ہے ۔ ( اور ہماری نماز فوت ہو گئی ہے ) “ چنانچہ ہم نے حُکم کی تعمیل کی ( کچھ آگے جا کر ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پانی منگوا کر وضو کیا پھر اذان کے بعد دو رکعات سنّت ادا کیں اور نماز فجر پڑھائی ۔