کتب حدیث ›
صحيح ابن خزيمه › ابواب
› باب: اس بات کی دلیل کا بیان کہ سیدہ عائشہ نے ” خیر کے کام “ سے نوافل مراد لیے ہیں فرض نہیں کیونکہ لفظ ” خیر “ فرض اور نفل دونوں پر بولا جاتا ہے
حدیث نمبر: 1109
نَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ ، وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ بِشْرِ بْنِ الْحَكَمِ ، وَيَحْيَى بْنِ حَكِيمٍ ، قَالُوا : حَدَّثَنَا يَحْيَى وَهُوَ ابْنُ سَعِيدٍ ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، حَدَّثَنِي عَطَاءٌ ، عَنْ عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ ، عَنْ عَائِشَةَ " أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " لَمْ يَكُنْ عَلَى شَيْءٍ مِنَ النَّوَافِلِ أَشَدَّ مِنْهُ مُعَاهَدَةً عَلَى الرَّكْعَتَيْنِ قَبْلَ الصُّبْحِ " . وَقَالَ يَحْيَى بْنُ حَكِيمٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي عُبَيْدُ بْنُ عُمَيْرٍ
محمد اجمل بھٹی حفظہ اللہ
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ بنی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم صبح کی نماز سے پہلے کی دو رکعتوں سے زیادہ کسی نفل نماز کا اہتمام نہیں کرتے تھے ۔