کتب حدیثصحيح ابن خزيمهابوابباب: ایک رات میں نمازی کو دوبارہ وتر پڑھنے کی ممانعت کا بیان کیونکہ دو بار وتر پڑھنے والے کی رات کی نماز جفت ہوجائے گی ، وتر نہیں رہے گی
حدیث نمبر: 1101
نَا أَحْمَدُ بْنُ الْمِقْدَامِ ، نَا مُلازِمُ بْنُ عَمْرٍو ، نَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بَدْرٍ ، عَنْ قَيْسِ بْنِ طَلْقٍ ، قَالَ : زَارَنَا أَبِي فِي يَوْمٍ مِنْ رَمَضَانَ ، فَأَمْسَى عِنْدَنَا وَأَفْطَرَ ، وَقَامَ بِنَا تِلْكَ اللَّيْلَةِ ، وَأَوْتَرَ بِنَا ، ثُمَّ انْحَدَرَ إِلَى مَسْجِدِهِ ، فَصَلَّى بِأَصْحَابِهِ حَتَّى بَقِيَ الْوِتْرُ ، ثُمَّ قَدَّمَ رَجُلا مِنْ أَصْحَابِهِ ، فَقَالَ : أَوْتِرْ بِأَصْحَابِكَ ، فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " لا وِتْرَانِ فِي لَيْلَةٍ "
محمد اجمل بھٹی حفظہ اللہ
حضرت قیس بن طلق بیا ن کرتے ہیں کہ رمضان المبارک میں ایک دن میرے والد محترم ہمیں ملنے کے لئے تشریف لائے ، اُنہوں نے شام ہمارے پاس کی اور روزہ افطار کیا ، اور اُس رات ہمیں قیام کرایا اور ہمیں وتر بھی پڑھائے ، پھر وہ اپنی مسجد میں تشریف لے گئے اور اپنے ساتھیوں کو نماز پڑھائی ، حتیٰ کہ وتر باقی رہ گیا ، پھر اپنے ساتھیوں میں سے ایک کو آگے کرکے فرمایا کہ تم اپنے ساتھیوں کو وتر پڑھا دو ۔ کیونکہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے : ’’ ایک رات میں دو مرتبہ وتر پڑھنا درست نہیں ہے ۔ “
حوالہ حدیث صحيح ابن خزيمه / جماع أبواب ذكر الوتر وما فيه من السنن / حدیث: 1101
تخریج حدیث اسناده حسن