حدیث نمبر: Q1009
وَالْخِيَارِ لِلْمُصَلِّي بَيْنَ الصَّلَاةِ فِيهِمَا وَبَيْنَ خَلْعِهِمَا وَوَضْعِهِمَا بَيْنَ رِجْلَيْهِ، كَيْ لَا يُؤْذِيَ بِهِمَا غَيْرَهُ
محمد اجمل بھٹی حفظہ اللہ
نمازی کو اختیار ہے کہ وہ جوتے پہن کر نماز پڑھ لے یا انہیں اُتار کر پڑھ لے اور اپنے دونوں قدموں کے درمیان جوتوں کو رکھ لے تاکہ ان سے دوسرے نمازیوں کو تکلیف نہ ہو
حدیث نمبر: 1009
نَا يُونُسُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنَا عِيَاضٌ عَبْدُ اللَّهِ الْقُرَشِيُّ ، وَغَيْرُهُ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " إِذَا صَلَّى أَحَدُكُمْ فَلْيَلْبَسْ نَعْلَيْهِ ، أَوْ لِيَخْلَعْهُمَا بَيْنَ رِجْلَيْهِ ، وَلا يُؤْذِ بِهِمَا غَيْرَهُ "
محمد اجمل بھٹی حفظہ اللہ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جب تم میں سے کوئی شخص نماز پڑھے تو اُسے چاہیے کہ اپنے جوتے پہن لے یا اُنہیں اُتار کر اپنی ٹانگوں کے درمیان رکھ لے ، اور ان کے ساتھ دوسروں کو تکلیف نہ دے ۔ “
حدیث نمبر: 1010
نَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ يَعْنِي ابْنَ زُرَيْعٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو سَلَمَةَ ، ح وَحَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، نَا بِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، وَحَدَّثَنَا يَعْقُوبُ أَيْضًا ، حَدَّثَنَا ابْنُ عُلَيَّةَ ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ يَزِيدَ وَهُوَ أَبُو مَسْلَمَةَ ، ح وَحَدَّثَنَا بُنْدَارٌ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، قَالَ : قُلْتُ لأَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَكَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " يُصَلِّي فِي النَّعْلَيْنِ ؟ قَالَ : نَعَمْ "
محمد اجمل بھٹی حفظہ اللہ
سیدنا ابوسلمہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ کیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جوتے پہن کر نماز پڑھ لیتے تھے ؟ انہوں نے جواب دیا ، ہاں ۔
حدیث نمبر: 1011
نَا الْفَضْلُ بْنُ سَهْلٍ ، نَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ ، نَا يُونُسُ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُصَلِّي عَلَى الْخُمْرَةِ ، وَقَالَ : " يَا عَائِشَةُ ارْفَعِي عَنَّا حَصِيرَكِ هَذَا ، فَقَدْ خَشِيتُ أَنْ يَكُونَ يَفْتِنُ النَّاسَ "
محمد اجمل بھٹی حفظہ اللہ
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم چھوٹی چٹائی پر نماز پڑھا کرتے تھے ۔ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اے عائشہ ، اپنی یہ چٹائی ہم سے دور کردو ، مجھے تو خدشہ پیدا ہوگیا تھا کہ کہیں یہ لوگوں کو فتنے میں نہ ڈال دے ۔ “
حدیث نمبر: 1012
نَا يُونُسُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى ، بِخَبَرٍ غَرِيبٍ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، قَالَ : لَمْ أَزَلْ أَسْمَعُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " صَلَّى عَلَى خُمْرَةٍ " ، وَقَالَ : عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : " كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي عَلَى الْخُمْرَةِ وَيَسْجُدُ عَلَيْهَا "
محمد اجمل بھٹی حفظہ اللہ
جناب ابن شہاب الزھری رحمه الله فرماتے ہیں کہ میں نے مسلسل یہ بات سنی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے چھوٹی چٹائی پر نماز ادا فرمائی ہے اور سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے فرمایا ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم چھوٹی چٹائی پر نماز پڑھا کرتے تھے اور اُس پر سجدہ کرتے تھے ـ
حدیث نمبر: 1013
نَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُبَارَكِ الْمُخَرِّمِيُّ ، أنا مُعَلَّى بْنُ مَنْصُورٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " يُصَلِّي عَلَى الْخُمْرَةِ ، لا يَدَعَهَا فِي سَفَرٍ وَلا حَضَرٍ " . هَكَذَا حَدَّثَنَا بِهِ الْمُخَرِّمِيُّ مَرْفُوعًا ، فَإِنْ كَانَ حَفِظَ فِي هَذَا الإِسْنَادِ وَرَفَعَهُ فَهَذَا خَبَرٌ غَرِيبٌ ، كَذَلِكَ خَبَرُ يُونُسَ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ أَنَسٍ غَرِيبٌ
محمد اجمل بھٹی حفظہ اللہ
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم چھوٹی چٹائی پر نماز پڑھا کرتے تھے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم اسے سفر و حضر میں اپنے ساتھ رکھتے تھے ۔ اسی طرح جناب محزمی نے ہمیں یہ حدیث مرفوع بیان کی ہے اگرچہ انہوں نے اس حدیث کی سند کو یاد رکھا ہے اور اسے مرفوع بیان کیا ہے مگر یہ حدیث غریب ہے اسی طرح جناب زہری کی سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت بھی غریب ہے ۔