کتب حدیثصحيح ابن خزيمهابوابباب: حائضہ عورت سے حیض کے دنوں میں نماز کے ساقط ہونے کا بیان
حدیث نمبر: Q1000
حوالہ حدیث صحيح ابن خزيمه / حدیث: Q1000
حدیث نمبر: 1000
نَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ يَعْنِي ابْنَ مُحَمَّدٍ الدَّرَاوَرْدِيَّ ، عَنْ سُهَيْلٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَطَبَ النَّاسَ فَوَعَظَهُمْ ، ثُمَّ قَالَ : " يَا مَعْشَرَ النِّسَاءِ ، إِنَّكُنَّ أَكْثَرُ أَهْلِ النَّارِ " ، فَقَالَتِ امْرَأَةٌ جَزْلَةٌ : وَبِمَ ذَاكَ ؟ قَالَ : " بِكَثْرَةِ اللَّعْنِ ، وَكُفْرِكُنَّ الْعَشِيرَ ، وَمَا رَأَيْتُ مِنَ نَاقِصَاتِ عَقْلٍ وَدِينٍ أَغْلَبَ لِذَوِي الأَلْبَابِ وَذَوِي الرَّأْيِ مِنْكُنَّ " قَالَتِ امْرَأَةٌ : مَا نُقْصَانُ عُقُولِنَا وَدِينِنَا ؟ قَالَ : " شَهَادَةُ امْرَأَتَيْنِ مِنْكُنَّ بِشَهَادَةِ رَجُلٍ ، وَنُقْصَانُ دِينِكُنَّ الْحَيْضَةُ ، تَمْكُثُ إِحْدَاكُنَّ الثَّلاثَ أَوِ الأَرْبَعَ لا تُصَلِّي "
محمد اجمل بھٹی حفظہ اللہ
سیدنا ابوہریرہ رضی اﷲ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو خطبہ دیتے ہوئے وعظ و نصیحت فرمائی ، پھر فرمایا : ”اے عورتوں کی جماعت ، بیشک تم جہنّم والوں کی اکثریت ہو ۔ تو ایک فصیح و بلیغ عورت نے عرض کی کہ اس کا سبب کیا ہے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”بکثرت لعن طعن کرنا اور اپنے خاوند کی ناشکری کرنا ۔ ( پھر فرمایا ) میں کم عقل ، ناقص دین والیاں ہونے کے باوجود عقل و دانش اور اہل رائے پر زیادہ غالب تم سے زیادہ کسی کو نہیں دیکھا ۔“ ایک عورت نے سوال کیا کہ ہماری کم عقلی اور دین میں نقص کیا ہے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تم میں سے دو عورتوں کی گواہی ایک مرد کے برابر ہے ( یہ کم عقلی کی دلیل ہے ) اور تمہارے دین کا نقصان حیض ہے ، تم میں سے ایک عورت تین یا چار دن ( حیض کی وجہ سے ) نماز نہیں پڑھتی ۔ “
حوالہ حدیث صحيح ابن خزيمه / حدیث: 1000