حدیث نمبر: Q976
فَرْقًا بَيْنَ الْفَرِيضَةِ وَالتَّطَوُّعِ فِي غَيْرِ الْمُسَابَقَةِ وَالْتِحَامِ الْقِتَالِ وَمُطَارَدَةِ الْعَدُوِّ
محمد اجمل بھٹی حفظہ اللہ
فرض اور نفل نماز میں فرق کہ وجہ سے ، اگر وہ اس وقت کسی مقابلے میں شریک ، دشمن سے گھمسان کی جنگ یا دشمن پر حملہ آور نہ ہو ( کیونکہ ان صورتوں میں فرض نماز بھی سواری پر پڑھنا جائز ہے )
حدیث نمبر: 976
نَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنُ مَيْمُونٍ بِالإِسْكَنْدَرِيَّةَ ، نَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ الدِّمَشْقِيُّ ، عَنِ الأَوْزَاعِيِّ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ ثَوْبَانَ ، حَدَّثَنِي جَابِرٌ ، قَالَ : " كُنَّا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي غَزْوَةٍ ، فَكَانَ يُصَلِّي التَّطَوُّعَ عَلَى رَاحِلَتِهِ مُسْتَقْبِلَ الشَّرْقِ ، فَإِذَا أَرَادَ أَنْ يُصَلِّيَ الْمَكْتُوبَةَ نَزَلَ فَاسْتَقْبَلَ الْقِبْلَةَ " . قَالَ أَبُو بَكْرٍ : مُحَمَّدٌ هُوَ ابْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ ثَوْبَانَ نَسَبُهُ إِلَى جَدِّهِ
محمد اجمل بھٹی حفظہ اللہ
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک جنگ میں شریک تھے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نفل نماز اپنی سواری پر مشرق کی جانب منہ کر کے پڑھتے تھے ۔ پھر جب فرض نماز پڑھنا چاہتے تو نیچے اُتر کر قبلہ رخ ہوکر پڑھتے ۔ امام ابوبکر رحمه الله فرماتے ہیں کہ محمد بن ثوبان سے مراد محمد بن عبدالرحمٰن بن ثوبان ہے اس کی نسبت ( باپ کے بجائے ) اس کے دادا ثوبان کی طرف گئی ہے ۔