کتب حدیث ›
صحيح ابن خزيمه › ابواب
› باب: سفر میں دو نمازوں کا جمع کرتے وقت ان کے لئے اذان اور اقامت کہنے کا بیان ،
حدیث نمبر: Q973
وَالدَّلِيلِ عَلَى أَنَّ الْأَوَّلَ مِنْهُمَا يُصَلَّى بِأَذَانٍ وَإِقَامَةٍ، وَالْأَخِيرَةَ مِنْهُمَا بِإِقَامَةٍ مِنْ غَيْرِ أَذَانٍ
محمد اجمل بھٹی حفظہ اللہ
اور اس بات کی دلیل کا بیان کہ ان میں سے پہلی نماز اذان اور اقامت کے ساتھ ادا کی جائے گی جبکہ دوسری صرف اقامت کے ساتھ بغیر اذان پڑھے ادا کی جائے گی
حدیث نمبر: 973
حَدَّثَنَا أَبُو مُوسَى مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عُقْبَةَ ، عَنْ كُرَيْبٍ ، عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ ، قَالَ : " أَفَضْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ عَرَفَاتٍ ، فَلَمَّا انْتَهَى إِلَى جَمْعٍ أَذَّنَ وَأَقَامَ ، ثُمَّ صَلَّى الْمَغْرِبَ ، ثُمَّ لَمْ يَحِلَّ آخِرُ النَّاسِ حَتَّى أَقَامَ ، فَصَلَّى الْعِشَاءَ "
محمد اجمل بھٹی حفظہ اللہ
سیدنا اُسامہ بن زید رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ میں رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ عرفات سے لوٹا ، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم مزدلفہ پہنچے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اذان اور اقامت کہلوائی ، پھر مغرب کی نماز ادا کی ، پھر آخری آدمی کے ( اپنی سواری کو ) کھولنے سے پہلے ہی اقامت ہوگئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عشا کی نماز پڑھائی ۔