کتب حدیثصحيح ابن خزيمهابوابباب: اس بات کی دلیل کا بیان کہ اللہ تعالی نے سفر میں نماز کی رکعات کی تعداد کا بیان اپنے نبی مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کے ذمہ لگایا ہے
حدیث نمبر: Q946
لَا أَنَّهُ عَزَّ ذِكْرُهُ بَيَّنَ عَدَدَهَا فِي الْكِتَابِ بِوَحْيٍ مِثْلِهِ مَسْطُورٍ بَيْنَ الدَّفَّتَيْنِ، وَهَذَا مِنَ الْجِنْسِ الَّذِي أَجْمَلَ اللَّهُ فَرْضَهُ فِي الْكِتَابِ وَوَلَّى نَبِيَّهُ تِبْيَانَهُ عَنِ اللَّهِ بِقَوْلٍ وَفِعْلٍ. قَالَ اللَّهُ: (وَأَنْزَلْنَا إِلَيْكَ الذِّكْرَ لِتُبَيِّنَ لِلنَّاسِ مَا نُزِّلَ إِلَيْهِمْ).
حوالہ حدیث صحيح ابن خزيمه / جماع أبواب الفريضة فى السفر / حدیث: Q946
حدیث نمبر: 946
نَا نَا يُونُسُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ يَعْنِي ابْنَ اللَّيْثِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أُمَيَّةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ خَالِدٍ ، أَنَّهُ قَالَ لِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ : " إِنَّا نَجِدُ صَلاةَ الْحَضَرِ وَصَلاةَ الْخَوْفِ فِي الْقُرْآنِ ، وَلا نَجِدُ صَلاةَ السَّفَرِ فِي الْقُرْآنِ ؟ فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ : يَا ابْنَ أَخِي ، إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ بَعَثَ إِلَيْنَا مُحَمَّدًا صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَلا نَعْلَمُ شَيْئًا ، فَإِنَّمَا نَفْعَلُ كَمَا رَأَيْنَا مُحَمَّدًا صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَفْعَلُ "
محمد اجمل بھٹی حفظہ اللہ
جناب امیہ بن عبداللہ بن خالد کہتے ہیں کہ میں نے سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے کہا کہ ہم حضر اور خوف کی نماز کا تذکرہ تو قرآن مجید میں نہیں پاتے ۔ تو سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ اے بھتیجے ، بیشک اللہ تعالیٰ نے ہماری طرف محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو مبعوث فرمایا اور ہم کچھ نہیں جانتے تھے ، لہٰذا ہم ( اب ) اس طرح کرتے ہیں جس طرح ہم نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو کرتے ہوئے دیکھا ہے ۔
حوالہ حدیث صحيح ابن خزيمه / جماع أبواب الفريضة فى السفر / حدیث: 946
تخریج حدیث اسناده صحيح
حدیث نمبر: 947
نَا عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ عَبْدِ الْحَكَمِ الْوَرَّاقُ ، أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ سُلَيْمٍ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : " سَافَرْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَمَعَ أَبِي بَكْرٍ ، وَعُمَرَ ، وَعُثْمَانَ ، فَكَانُوا يُصَلُّونَ الظُّهْرَ وَالْعَصْرَ رَكْعَتَيْنِ رَكْعَتَيْنِ ، لا يُصَلُّونَ قَبْلَهَا ، وَلا بَعْدَهَا " وَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ : لَوْ كُنْتُ مُصَلِّيًا قَبْلَهَا أَوْ بَعْدَهَا لأَتْمَمْتُهَا
محمد اجمل بھٹی حفظہ اللہ
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم اور سیدنا ابوبکر ، عمر اور عثمان رضی اﷲ عنہم اجمعین کے ساتھ سفر کئے ہیں ، یہ سب حضرات ظہر اور عصر کی نماز دو دو رکعت پڑھا کرتے تھے ، ان سے پہلے اور بعد میں کوئی ( نفل یا سنت ) نماز نہیں پڑھتے تھے ۔ اور سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ اگر میں نے ان نمازوں سے پہلے یا بعد میں ( سفر کی حالت میں نفل یا سنتیں ) پڑھنی ہوتیں تو میں یہ نمازیں پوری پڑھتا ( اور قصر نہ کرتا ) ۔
حوالہ حدیث صحيح ابن خزيمه / جماع أبواب الفريضة فى السفر / حدیث: 947
تخریج حدیث اسناده صحيح
حدیث نمبر: 948
قَالَ أَبُو بَكْرٍ : وَفِي خَبَرِ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ " صَلَّى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الظُّهْرَ بِالْمَدِينَةِ أَرْبَعًا ، وَالْعَصْرَ بِذِي الْحُلَيْفَةِ رَكْعَتَيْنِ " دَالٌ عَلَى أَنَّ لِلآمِنِ غَيْرِ الْخَائِفِ مِنْ أَنْ يَفْتِنَهُ الْكُفَّارُ أَنْ يَقْصُرَ الصَّلاةَ .
محمد اجمل بھٹی حفظہ اللہ
امام ابوبکر رحمه الله فرماتے ہیں کہ سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ کی یہ حدیث کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ منورہ میں ظہر کی نماز چار رکعتیں پڑھی اور ذوالحلیفہ کے مقام پر عصر کی نماز دو رکعت پڑھی ۔ یہ اس بات کی دلیل ہے کہ امن و امان کی حالت میں کفار کے فتنے کے ڈر کے بغیر بھی نمازی ( سفر میں ) نماز قصر کر سکتا ہے ۔
حوالہ حدیث صحيح ابن خزيمه / جماع أبواب الفريضة فى السفر / حدیث: 948
تخریج حدیث صحيح بخاري
حدیث نمبر: 949
وَكَذَلِكَ خَبَرُ حَارِثَةَ بْنِ وَهْبٍ " صَلَّى بِنَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَكْعَتَيْنِ أَكْثَرَ مَا كُنَّا وَآمَنُهُ " ، وَخَبَرُ أَبِي حَنْظَلَةَ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قُلْتُ : إِنَّا آمِنُونَ ، قَالَ : كَذَلِكَ سَنَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَدُلُّ عَلَى أَنَّ لِغَيْرِ الْخَائِفِ قَصْرَ الصَّلاةِ فِي السَّفَرِ
محمد اجمل بھٹی حفظہ اللہ
اور اسی طرح حضرت حارثہ بن وہب کی یہ حدیث بھی اس مسئلہ کی دلیل ہے کہ ہمیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دو رکعتیں ( سفرمیں ) پڑھائیں حالانکہ ہم کثیر تعداد میں اور نہایت امن و امان میں تھے ۔ اور ابوحنظلہ کی سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت میں ہے کہ میں نے کہا ، ” بیشک ہم امن و امان کی حالت میں ہیں ۔ تو انہوں نے فرمایا کہ ” نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی طرح طریقہ سکھایا ہے ۔ یہ اس بات کی دلیل ہے کہ سفر میں کسی خوف کے بغیر بھی نمازی نماز قصر کر سکتا ہے ۔
حوالہ حدیث صحيح ابن خزيمه / جماع أبواب الفريضة فى السفر / حدیث: 949
تخریج حدیث صحيح بخاري