کتب حدیثصحيح ابن خزيمهابوابباب: شوہر کو ناراض کرنے والی عورت اور بھگوڑے غلام کی نماز قبول نہیں ہوتی
حدیث نمبر: 940
نَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ ، حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " ثَلاثَةٌ لا يَقْبَلُ اللَّهُ لَهُمْ صَلاةً وَلا يَصْعَدُ لَهُمْ حَسَنَةٌ : الْعَبْدُ الآبِقُ حَتَّى يَرْجِعَ إِلَى مَوَالِيهِ ، فَيَضَعُ يَدَهُ فِي أَيْدِيهِمْ ، وَالْمَرْأَةُ السَّاخِطُ عَلَيْهَا زَوْجُهَا حَتَّى يَرْضَى ، وَالسَّكْرَانُ حَتَّى يَصْحُوَ "
محمد اجمل بھٹی حفظہ اللہ
سیدنا جابر بن عبدﷲ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ’’ تین شخص ایسے ہیں کہ اُن کی نماز قبول نہیں ہوتی اور نہ ُان کے نیک عمل اوپر چڑھتے ہیں ، بھگوڑا غلام حتیٰ کہ وہ اپنے آقاؤں کے پاس لوٹ آئے اور اپنا ہاتھ اُن کے ہاتھوں میں دے دے ( یعنی اُن کا فرماں بردار بن جائے ) اور وہ عورت جس کا خاوند اُس پر ناراض ہو حتیٰ کہ وہ راضی ہو جائے ، اور نشے میں مد ہوش شخص حتیٰ کہ اُسے ہوش آجائے ۔ “
حوالہ حدیث صحيح ابن خزيمه / جماع أبواب الأفعال المكروهة فى الصلاة التى قد نهي عنها المصلي / حدیث: 940
تخریج حدیث اسناده ضعيف
حدیث نمبر: 941
نَا يَحْيَى بْنُ حَكِيمٍ ، نَا أَبُو دَاوُدَ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، أَخْبَرَنِي مَنْصُورُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْغَدَانِيُّ ، قَالَ : سَمِعْتُ الشَّعْبِيَّ يُحَدِّثُ ، عَنْ جَرِيرٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " إِذَا أَبَقَ الْعَبْدُ لَمْ يُقْبَلْ لَهُ صَلاةٌ حَتَّى يَرْجِعَ إِلَى مَوَالِيهِ "
محمد اجمل بھٹی حفظہ اللہ
سیدنا جریر رضی اﷲ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ’’ جب غلام فرار ہو جائے تو اس کی کوئی نماز قبول نہیں ہوتی ، حتیٰ کہ وہ اپنے آقاؤں کے پاس واپس آجائے ۔ “
حوالہ حدیث صحيح ابن خزيمه / جماع أبواب الأفعال المكروهة فى الصلاة التى قد نهي عنها المصلي / حدیث: 941