کتب حدیثصحيح ابن خزيمهابوابباب: شرابی کی نماز قبول نہیں ہوتی
حدیث نمبر: 939
نَا زَكَرِيَّا بْنُ يَحْيَى بْنِ إِيَاسٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُهَاجِرِ ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ رُوَيْمٍ ، عَنِ ابْنِ الدَّيْلَمِيِّ الَّذِي كَانَ يَسْكُنُ بَيْتَ الْمَقْدِسِ ، أَنَّهُ مَكَثَ فِي طَلَبِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ بِالْمَدِينَةِ ، فَسَأَلَ عَنْهُ ، قَالُوا : قَدْ سَارَ إِلَى مَكَّةَ ، فَأَتْبَعَهُ فَوَجَدَهُ قَدْ سَارَ إِلَى الطَّائِفِ فَأَتْبَعَهُ فَوَجَدَهُ فِي زُرْعَةٍ يَمْشِي مُخَاصِرًا رَجُلا مِنْ قُرَيْشٍ ، وَالْقُرَيْشِيُّ يُزِنُّ بِالْخَمْرِ ، فَلَمَّا لَقِيتُهُ سَلَّمْتُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَيَّ . قَالَ : مَا عَدَا بِكَ الْيَوْمَ ، وَمِنْ أَيْنَ أَقْبَلْتَ ، فَأَخْبَرْتُهُ ، ثُمَّ سَأَلْتُهُ ، هَلْ سَمِعْتَ يَا عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرٍو رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَكَرَ شَرَابَ الْخَمْرِ بِشَيْءٍ ؟ قَالَ : نَعَمْ ، فَانْتَزَعَ الْقُرَشِيُّ يَدَهُ ، ثُمَّ ذَهَبَ ، فَقَالَ : سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " لا يَشْرَبُ الْخَمْرَ رَجُلٌ مِنْ أُمَّتِي فَيُقْبَلُ لَهُ صَلاةٌ أَرْبَعِينَ صَبَاحًا "
محمد اجمل بھٹی حفظہ اللہ
جناب عروہ بن رویم ، ابن دیلمی سے روایت کرتے ہیں جو کہ بیت المقدس میں رہتے تھے ، کہ وہ سیدنا عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ کی تلاش ( اور ان سے ملاقات ) کے لئے مدینہ منورہ میں ٹھہرے اور سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ کے بارے میں پوچھا تو لوگوں نے بتایا کہ وہ مکّہ مکرّمہ روانہ ہو گئے ہیں ، وہ اُن کے پیچھے گئے تو معلوم ہوا کہ وہ طائف چلے گئے ہیں ، تو وہ اُن کے پیچھے ( طائف ) گئے تو اُنہیں ایک کھیت میں ایک قریش شخص کے ہاتھ میں ہاتھ ڈالے ہوئے چلتے ہوئے دیکھا ۔ جبکہ قریشی کے بارے میں شرابی ہونے کا گمان کیا جاتا تھا ۔ پھر جب میں اُن سے ملا تو میں نے اُنہیں سلام کیا ، اور اُنہوں نے بھی مجھے سلام کیا اور انہوں نے پوچھا کہ آج تمہیں کس چیز نے دوڑایا ہے اور کہاں سے آرہے ہو ؟ تو میں نے اُنہیں بتایا ( کہ مدینہ سے آپ کی ملاقات کے لئے آ رہا ہوں ) پھر میں نے اُن سے پوچھا کہ اے عبداﷲ بن عمرو ، کیا آپ نے رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم سے شراب پینے کے متعلق کوئی فرمان سنا ہے ؟ تو اُنہوں نے کہا کہ ہاں ۔ تو قریشی اپنا ہاتھ چھڑا کر چلا گیا ۔ اُنہوں نے فرمایا کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے : ’’ میری اُمّت کا جو شخص بھی شراب پیئے گا تو چالیس دن تک اُس کی نماز قبول نہیں ہوگی ۔ “
حوالہ حدیث صحيح ابن خزيمه / جماع أبواب الأفعال المكروهة فى الصلاة التى قد نهي عنها المصلي / حدیث: 939
تخریج حدیث اسناده صحيح