کتب حدیثصحيح ابن خزيمهابوابباب: دکھلاوے کے لئے پڑھنے والے کی نماز قبول نہیں ہوتی
حدیث نمبر: 938
نَا نَا بُنْدَارٌ ، نَا مُحَمَّدٌ ، ح وَحَدَّثَنَا أَبُو مُوسَى ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ : سَمِعْتُ الْعَلاءَ يُحَدِّثُ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَرْوِيهِ عَنْ رَبِّهِ ، قَالَ : " أَنَا خَيْرُ الشُّرَكَاءِ " وَقَالَ بُنْدَارٌ : " أَنَا أَغْنَى الشُّرَكَاءِ عَنِ الشِّرْكِ فَمَنْ عَمَلَ عَمَلا فَأَشْرَكَ فِيهِ غَيْرِي فَأَنَا مِنْهُ بَرِيءٌ وَهُوَ لِلَّذِي أَشْرَكَ " وَقَالَ بُنْدَارٌ : قَالَ : " فَأَنَا مِنْهُ بَرِيءٌ وَلْيَلْتَمِسْ ثَوَابَهُ مِنْهُ " وَقَالَ بُنْدَارٌ : عَنِ الْعَلاءِ
محمد اجمل بھٹی حفظہ اللہ
سیدنا ابوہریرہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کر تے ہیں جسے آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے پروردگار سے بیان کر تے ہیں ، اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : ”میں شریکوں سے بہتر ہوں ۔“ اور بندار کی روایت کے الفاظ یہ ہیں کہ ”میں شریکوں کے شرک سے بے پرواہوں ۔ لہٰذا جس شخص نے کوئی عمل کیا اور اس میں میرے ساتھ کسی کو شریک بنایا تو میں اس سے بری ہوں ، اور وہ عمل اُسی کے لئے ہے جسے اُس نے شریک بنایا تھا ۔“ جناب بندار کی روایت میں یہ الفاظ ہیں کہ ” تو میں اس سے بیزار اور لاتعلق ہوں اور اُسے اپنا اجروثواب اسی ( شریک ) سے مانگنا چاہیے ۔ “
حوالہ حدیث صحيح ابن خزيمه / جماع أبواب الأفعال المكروهة فى الصلاة التى قد نهي عنها المصلي / حدیث: 938