کتب حدیثصحيح ابن خزيمهابوابباب: دکھلاوے کے لئے نماز کو خوبصورت اور احسن انداز میں ادا کرنا سخت منع ہے
حدیث نمبر: 937
نَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ الأَشَجُّ ، حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ يَعْنِي سُلَيْمَانَ بْنَ حَبَّانَ ، ح وَحَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ ، أَخْبَرَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ جَمِيعًا ، عَنْ سَعْدِ بْنِ إِسْحَاقَ بْنِ كَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ عُمَرَ بْنِ قَتَادَةَ ، عَنْ مَحْمُودِ بْنِ لَبِيدٍ ، قَالَ : خَرَجَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ : " أَيُّهَا النَّاسُ إِيَّاكُمْ وَشِرْكَ السَّرَائِرِ " قَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، وَمَا شِرْكُ السَّرَائِرِ ؟ قَالَ : " يَقُومُ الرَّجُلُ فَيُصَلِّي فَيُزَيِّنُ صَلاتَهُ جَاهِدًا لِمَا يَرَى مِنْ نَظَرِ النَّاسِ إِلَيْهِ ، فَذَلِكَ شِرْكُ السَّرَائِرِ "
محمد اجمل بھٹی حفظہ اللہ
سیدنا محمودبن لبید رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ( گھرسے ) باہر تشریف لائے اور فرمایا : ”لوگو ، مخفی اور پوشیدہ شرک سے بچو ، صحابہ کرام نے عرض کی کہ اے اللہ کے رسول ، مخفی شرک کیا ہے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” ایک شخص کھڑے ہوکر نماز پڑھتا ہے تو اپنی نماز کو خوب مزیّن کرتا ہے ، لوگوں کو اپنی طرف دیکھتے ہوئے دیکھتا ہے تو خوب محنت و کوشش ( سے نمازادا ) کرتا ہے ، تو یہی مخفی و پوشیدہ شرک ہے ۔ “
حوالہ حدیث صحيح ابن خزيمه / جماع أبواب الأفعال المكروهة فى الصلاة التى قد نهي عنها المصلي / حدیث: 937
تخریج حدیث حسن