کتب حدیثصحيح ابن خزيمهابوابباب: نماز میں جمائی لینے والے کے لیے ھاہ یا اس طرح کی اور آواز نکالنا منع ہے کیونکہ شیطان اس کے ھاہ کہنے سے اس کے پیٹ میں ہنستا ہے
حدیث نمبر: 921
نَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلاءِ بْنِ كُرَيْبٍ ، نَا أَبُو خَالِدٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَجْلانَ ، عَنْ سَعِيدٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " الْعُطَاسُ مِنَ اللَّهِ ، وَالتَّثَاؤُبُ مِنَ الشَّيْطَانِ ، فَإِذَا تَثَاءَبَ أَحَدُكُمْ فَلا يَقُلْ : هَاهْ ، فَإِنَّ الشَّيْطَانَ يَضْحَكُ فِي جَوْفِهِ "
محمد اجمل بھٹی حفظہ اللہ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم صلے اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” چھینک اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے اور جمائی شیطان کی طرف سے ہے ، لہٰذا جب تم میں سے کسی شخص کو جمائی آئے تو وہ ” ھاہ “ مت کہے کیونکہ ( اس سے ) شیطان اس کے پیٹ میں ہنستا ہے ـ “
حوالہ حدیث صحيح ابن خزيمه / جماع أبواب الأفعال المكروهة فى الصلاة التى قد نهي عنها المصلي / حدیث: 921
تخریج حدیث اسناده حسن
حدیث نمبر: 922
حَدَّثَنَا الصَّنْعَانِيُّ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى ، نَا بِشْرٌ يَعْنِي ابْنَ الْمُفَضَّلِ ، نَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ وَهُوَ ابْنُ إِسْحَاقَ ، عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ الْعُطَاسَ ، وَيَكْرَهُ التَّثَاؤُبَ ، فَإِذَا تَثَاءَبَ أَحَدُكُمْ فَلا يَقُلْ : آهْ آهْ ؛ فَإِنَّ الشَّيْطَانَ يَضْحَكُ مِنْهُ ، أَوْ قَالَ : يَلْعَبُ بِهِ "
محمد اجمل بھٹی حفظہ اللہ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”بیشک اللہ چھینک کو پسند فرماتا ہے اور جمائی کو ناپسند کرتا ہے ، تو جب تم میں سے کسی شخص کو جمائی آئے تو وہ آہ ، آہ کی آواز نہ نکالے ، کیونکہ اس سے شیطان ہنستا ہے یا فرمایا : ” وہ اس کے ساتھ کھیلتا ہے ۔ “
حوالہ حدیث صحيح ابن خزيمه / جماع أبواب الأفعال المكروهة فى الصلاة التى قد نهي عنها المصلي / حدیث: 922
تخریج حدیث اسناده حسن