کتب حدیثصحيح ابن خزيمهابوابباب: نماز میں جمائی لینا مکروہ ہے کیونکہ یہ شیطان کی طرف سے ہوتی ہے اور نمازی کو حسب طاقت اسے روکنے کا حُکم ہے
حدیث نمبر: 920
نَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ ، نَا إِسْمَاعِيلُ يَعْنِي ابْنَ جَعْفَرٍ ، نَا الْعَلاءُ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " التَّثَاؤُبُ فِي الصَّلاةِ مِنَ الشَّيْطَانِ ، فَإِذَا تَثَاوَبَ أَحَدُكُمْ فَلْيَكْظِمْ مَا اسْتَطَاعَ "
محمد اجمل بھٹی حفظہ اللہ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : نماز میں جمائی کا آنا شیطان کی طرف سے ہوتا ہے ، لہٰذا تم میں سے کسی شخص کو جمائی آئے تو اُسے حسب طاقت و قدرت روکنا چاہیے ـ “
حوالہ حدیث صحيح ابن خزيمه / جماع أبواب الأفعال المكروهة فى الصلاة التى قد نهي عنها المصلي / حدیث: 920
تخریج حدیث صحيح مسلم