کتب حدیثصحيح ابن خزيمهابوابباب: گذشتہ مجمل روایت کی مفسر روایت کا بیان ،
حدیث نمبر: Q915
وَالدَّلِيلِ عَلَى أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ أَبَاحَ مَسْحَ الْحَصَا فِي الصَّلَاةِ مَرَّةً وَاحِدَةً قَالَ أَبُو بَكْرٍ: قَدْ أَمْلَيْتُ فِيمَا قَبْلُ خَبَرَ مُعَيْقِيبٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنْ كُنْتَ فَاعِلًا فَوَاحِدَةً
محمد اجمل بھٹی حفظہ اللہ
اور اس بات کی دلیل کا بیان کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز میں ایک مرتبہ کنکریوں کو چھونے اور درست کرنے کی اجازت دی ہے
حوالہ حدیث صحيح ابن خزيمه / جماع أبواب الأفعال المكروهة فى الصلاة التى قد نهي عنها المصلي / حدیث: Q915
حدیث نمبر: 915
محمد اجمل بھٹی حفظہ اللہ
امام ابوبکر رحمه الله کہتے ہیں کہ میں اس سے پہلے سیدنا معیقیب رضی اللہ عنہ کی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ روایت بیان کر چکا ہو ں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اگر تم نے ضرور( ہی کنکریوں کو درست کر نا ہو ) تو ایک بار کرلو ۔“
حوالہ حدیث صحيح ابن خزيمه / جماع أبواب الأفعال المكروهة فى الصلاة التى قد نهي عنها المصلي / حدیث: 915
حدیث نمبر: 916
نَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي يَزِيدَ وَرَّاقُ الْفِرْيَابِيِّ بِالرَّمْلَةِ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ ، نَا سُفْيَانُ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عِيسَى ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ ، قَالَ : سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ كُلِّ شَيْءٍ ، حَتَّى سَأَلْتُهُ عَنْ مَسْحِ الْحَصَى فِي الصَّلاةِ ، فَقَالَ : " وَاحِدَةٌ أَوْ دَعْ "
محمد اجمل بھٹی حفظہ اللہ
سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول االلہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ہر چیز کے متعلق سوال کیا ہے حتیٰ کہ میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے نماز میں کنکریوں کے چھونے ( انہیں درست کرنے ) کے بارے میں بھی پوچھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” ایک بار درست کرلو یا رہنے دو ( جیسے ہوں ویسے ہی رہنے دو ـ ) “
حوالہ حدیث صحيح ابن خزيمه / جماع أبواب الأفعال المكروهة فى الصلاة التى قد نهي عنها المصلي / حدیث: 916
تخریج حدیث اسناده ضعيف