کتب حدیث ›
صحيح ابن خزيمه › ابواب
› باب: ( نماز کے دوران ) کنکریوں کو چھونے اور انہیں حرکت دینے کی ممانعت کا بیان ، ایک مجمل غیر مفسر روایت کے سات
حدیث نمبر: 913
نَا عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ الْعَلاءِ ، نَا سُفْيَانُ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا الأَحْوَصِ ، يَقُولُ : سَمِعْتُ أَبَا ذَرٍّ ، يَقُولُ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، ح وَحَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ عُيَيْنَةَ ، ح وَحَدَّثَنَا الْمَخْزُومِيُّ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بِهَذَا الإِسْنَادِ ، وَقَالا فِي كُلِّهَا : عَنْ : " إِذَا قَامَ أَحَدُكُمْ فِي الصَّلاةِ فَإِنَّ الرَّحْمَةَ تُوَاجِهُهُ ، فَلا يَمْسَحِ الْحَصَى " . زَادَ عَبْدُ الْجَبَّارِ ، فَقَالَ لَهُ سَعْدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ : مَنْ أَبُو الأَحْوَصِ ؟ قَالَ : رَأَيْتَ الشَّيْخَ الَّذِي صِفَتُهُ كَذَا وَكَذَا
محمد اجمل بھٹی حفظہ اللہ
سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جب تم میں سے کوئی شخص نماز میں کھڑا ہوتا ہے رحمتِ الٰہی اس کی طرف متوجہ ہوتی ہے لہٰذا وہ کنکریوں کو نہ چھوئے ۔ جناب عبدالجبار نے یہ اضافہ بیان کیا ہے کہ سعد بن ابراھیم نے ان سے پوچھا کہ ابو الاحوص کون ہیں ؟ تو اُنہوں نے جواب دیا کہ تم نے وہ بزرگ دیکھے ہیں جن کی یہ یہ صفات ہیں ۔
حدیث نمبر: 914
نَا أَحْمَدُ بْنُ الْمِقْدَامِ الْعِجْلِيُّ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ يَعْنِي ابْنَ زُرَيْعٍ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ أَبِي الأَحْوَصِ اللَّيْثِيِّ ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِذَا قَامَ أَحَدُكُمْ فِي الصَّلاةِ فَإِنَّ الرَّحْمَةَ تُوَاجِهُهُ ، فَلا تُحَرِّكُوا الْحَصَى "
محمد اجمل بھٹی حفظہ اللہ
سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جب تم سے کوئی شخص نماز میں کھڑا ہوتا ہے تو رحمتِ ربانی اس کی طرف متوجہ ہوتی ہے ، اس لئے تم کنکریوں کو نہ ہلایا کرو ۔ “ ( اپنی توجہ نماز کے علاوہ دیگر کاموں کی طرف نہ کیا کرو ۔ )