کتب حدیثصحيح ابن خزيمهابوابباب: نماز میں بالوں کا جوڑا بنانے کی ممانعت کا بیان
حدیث نمبر: Q910
وَتَمْثِيلِ الْعَاقِصِ فِي الصَّلَاةِ بِالْمَكْتُوفِ فِيهَا. وَفِيهِ مَا دَلَّ عَلَى كَرَاهَةِ صَلَاةِ الْمَرْءِ مَكْتُوفًا إِذَا كَانَ لَهُ السَّبِيلُ إِلَى حَلِّ يَدَيْهِ مِنَ الْأَكْتَافِ
حوالہ حدیث صحيح ابن خزيمه / جماع أبواب الأفعال المكروهة فى الصلاة التى قد نهي عنها المصلي / حدیث: Q910
حدیث نمبر: 910
نَا يُونُسُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى ، وَعِيسَى بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْغَافِقِيُّ ، قَالا : حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ، وَقَالَ عِيسَى : عَنْ عَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ ، أَنَّ بُكَيْرًا حَدَّثَهُ ، أَنَّ كُرَيْبًا مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ حَدَّثَهُ ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَبَّاسٍ رَأَى عَبْدَ اللَّهِ بْنَ الْحَارِثِ يُصَلِّي وَرَأْسُهُ مَعْقُوصٌ مِنْ وَرَائِهِ ، فَقَامَ ، فَجَعَلَ يَحُلُّهُ ، وَأَقَرَّ لَهُ الآخَرَ ، فَلَمَّا انْصَرَفَ أَقْبَلَ إِلَى ابْنِ عَبَّاسٍ ، فَقَالَ : مَالَكَ وَرَأْسِي ؟ فَقَالَ : إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " إِنَّمَا مَثَلُ هَذَا مِثَالُ الَّذِي يُصَلِّي وَهُوَ مَكْتُوفٌ " قَالَ يُونُسُ : وَهُوَ مَعْقُوصٌ ، فَقَامَ وَرَاءَهُ فَحَلَّ عَنْهُ وَأَقَرَّ لَهُ الآخَرَ . كَذَا قَالا جَمِيعًا : وَأَقَرَّ الآخَرَ . قَالَ أَبُو بَكْرٍ : وَالصَّحِيحُ قَرَّ
محمد اجمل بھٹی حفظہ اللہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کے آزاد کردہ غلام کریب بیان کرتے ہیں کہ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے عبداللہ بن حارث کو اس حال میں نماز پڑھتے دیکھا کہ اُن کے سر ( کے بالوں ) جوڑا گردن کے پیچھے بنا ہوا تھا - تو وہ کھڑے ہوئے اور ان کے ایک جوڑے کو کھول دیا اور ایک رہنے دیا اور عبداللہ بن حارث نماز میں ہی مشغول رہے ( یعنی آگے سے کوئی حرکت نہیں کی ) پھر جب نماز مکمّل کر لی تو وہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کی خدمت میں آئے اور کہنے لگے کہ آپ نے میرے سر ( کے بالوں ) کو کیوں کھولا ؟ تو انہوں نے فرمایا ، بیشک میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے کہ ”بلاشبہ اس کی مثال اس شخص کی ہے جو دست بستہ حالت میں نماز پڑھتا ہے ۔“ جناب یونس کی روایت میں ہے کہ ”اور ان کا سر گوندھا ہوا تھا ۔ تو سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے اُن کے پیچھے کھڑے ہو کر چوٹی کھول دی اور اور اس کی دوسری چوٹی باقی رہنے دی- تمام راویوں نے اسی طرح ” اَقَرَّ “ کا لفظ استعمال کیا- امام ابوبکر رحمه الله کہتے ہیں کہ صحیح لفظ ” قَرَّ “ ہے ـ
حوالہ حدیث صحيح ابن خزيمه / جماع أبواب الأفعال المكروهة فى الصلاة التى قد نهي عنها المصلي / حدیث: 910
تخریج حدیث اسناده صحيح